اسلام آباد: حکومت پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ملک کے عدالتی اور عسکری ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیوں کی تجویز پیش کر دی ہے جس کے مطابق آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ دینے کا فیصلہ شامل ہے۔ مجوزہ بل کا مسودہ منظر عام پر آ گیا ہے جس میں 48 آرٹیکلز میں مختلف ترامیم کی تجویز دی گئی ہے۔
ترمیمی مسودے کے مطابق ایک نئی وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے کی شق شامل کی گئی ہے، جو سپریم کورٹ سے علیحدہ ہوگی۔ اس عدالت کا صدر مقام اسلام آباد میں ہوگا اور اسے وفاق و صوبوں کے درمیان تنازعات، آئینی تشریحات اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات سننے کا مکمل اختیار حاصل ہوگا۔ اس عدالت کے چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت تین سال اور ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے۔
مسودے میں آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بعد سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس (سوموٹو) کے اختیارات ختم ہو جائیں گے۔ اسی طرح آرٹیکل 175 میں ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی راہ ہموار کی گئی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات کو محدود کر کے نئی عدالت کو منتقل کیا جائے گا۔
ججز کی تقرری کے حوالے سے آرٹیکل 175اے میں نیا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ دونوں کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن کا حصہ ہوں گے۔ دونوں عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے، تاہم آرٹیکل 189 میں ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم قرار دیے جائیں گے۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی از سر نو تشکیل بھی مجوزہ بل کا حصہ ہے، جس میں دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس ارکان کے طور پر شامل ہوں گے۔
مزید برآں آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل کے عہدے کو قومی ہیرو کا درجہ اور تاحیات مراعات دینے کی شق بھی شامل ہے۔
آئینی ترمیم کے تحت وزیراعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار دینے کے لیے آرٹیکل 93 میں ترمیم شامل کی گئی ہے، جب کہ وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد بڑھانے کے لیے آرٹیکل 130 میں تبدیلی کی گئی ہے۔ آرٹیکل 206 کے مطابق اگر کوئی جج سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں تقرری سے انکار کرے تو اسے ریٹائر تصور کیا جائے گا۔
آرٹیکل 209 میں ترمیم کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قواعد 60 دن میں تشکیل دینے کی شرط رکھی گئی ہے۔ مجوزہ بل میں مزید کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 176 تا 183 میں سپریم کورٹ کے حوالے سے اصطلاحات میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ وفاقی آئینی عدالت کے ایڈوائزری دائرہ کار کو بھی آئین میں باقاعدہ طور پر متعین کرنے کی شق شامل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








