ہر سال نومبر کے مہینے میں دنیا بھر میں گیارہ گیارہ کے موقع پر بڑی کمپنیاں خصوصی رعایتوں کے ساتھ سیل لگاتی ہیں، جہاں صارفین کو معیاری اشیاء کم قیمتوں پر دستیاب ہوتی ہیں تاہم پاکستان میں یہی موقع کئی جعلساز عناصر کے لیے کمائی کا ذریعہ بن چکا ہے جہاں ناقص، پرانی یا نقلی اشیاء کو ڈسکاؤنٹ‘ کے نام پر عوام کے ہاتھوں فروخت کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں آن لائن خریداری کے سب سے بڑے پلیٹ فارم دراز کی گیارہ گیارہ سیل ایک بار پھر عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ اس سال بھی متعدد صارفین کو غیر معیاری اور غلط اشیاء موصول ہوئیں جبکہ کچھ نے قیمتوں میں جعل سازی کی شکایات درج کرائیں۔
صارفین کے مطابق کئی مصنوعات کی قیمتیں پہلے بڑھائی گئیں اور پھر ڈسکاؤنٹ کے نام پر کم دکھائی گئیں تاکہ رعایت کا جھوٹا تاثر پیدا کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اس دھوکہ دہی کے شواہد بھی شیئر کیے۔ کئی افراد نے مختلف برانڈز کی اصل مارکیٹ قیمت اور دراز پر دکھائی جانے والی رعایتی قیمت کا موازنہ کیا جس سے واضح ہوا کہ درحقیقت اشیاء مہنگی ہی بیچی جا رہی تھیں۔ کچھ صارفین نے تو یہاں تک کہا کہ گیارہ گیارہ سیل پاکستان میں گیارہ گیارہ فراڈ بن چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مسئلہ صرف دراز تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں آن لائن خریداری کے پورے نظام میں شفافیت کی کمی ہے۔ جعلی ویب سائٹس، غیر مصدقہ دکاندار، جعلی تصویریں اور نقلی برانڈز کے نام پر خریداروں کو لوٹنے کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔
خاص طور پر بڑی سیلز کے موقع پر یہ دھوکہ دہی بڑھ جاتی ہے کیونکہ عوام کم قیمتوں کے لالچ میں تصدیق کیے بغیر خریداری کر لیتے ہیں۔
ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ کسی بھی آن لائن اسٹور سے خریداری کرنے سے قبل دکاندار کے ریویوز، تصدیقی نشان اور سرکاری اسٹور کے بیج کو ضرور چیک کریں۔ صرف معتبر اور معروف کمپنیوں کے آفیشل اسٹورز سے خریداری کریں تاکہ دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔
دراز انتظامیہ کی جانب سے ماضی میں ایسے الزامات پر کہا گیا تھا کہ وہ صارفین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں اور تمام سرکاری اسٹورز کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے مگر عوامی شکایات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس سال بھی گیارہ گیارہ سیل کے دوران سینکڑوں صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔
پاکستان میں آن لائن خریداری کا شعبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، مگر اگر جعلی رعایتوں، غیر معیاری اشیاء اور صارفین کو دھوکہ دینے کا رجحان برقرار رہا تو عوام کا اعتماد بری طرح متاثر ہوگا۔
حکومت اور سائبر ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے فراڈ سیلز کے خلاف کارروائی کریں تاکہ عوامی مفاد کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








