سوشل میڈیا پر فالورز کی دوڑ ختم؟ جانیں کیوں کم فالورز والے اکاؤنٹس قابل احترام قرار دیئے جارہے ہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

سوشل میڈیا پر مشہور بہت سے طریقے ہیں لیکن سب ایک جیسے نہیں ہیں جیسا کہ کچھ اکاؤنٹس مشہور برانڈز یا شخصیات کے ہوتے ہیں جن کے فالورز خود بخود آ جاتے ہیں بغیر محنت کے جبکہ کچھ لوگ جیسے ایملی ماریکو نے 2021 میں ٹک ٹاک پر خاموش کھانا پکانے کی ویڈیوز سے 12 ملین فالورز بنائے اور کچھ ماہرین جیسے اکنامک ہسٹورین ایڈم ٹوز کے ایکس پر صرف دو لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں۔

امریکی جریدے نیو یارکر کے مطابق آج کل بہت سے بڑے اکاؤنٹس کے فالورز بوٹس، نفرت کرنے والے یاگمنام پروفائلز ہوتے ہیں۔ ان کی پوسٹس پر لائکس اور کمنٹس کم ہوتے ہیں۔ کچھ مشہور لوگوں کے اکاؤنٹس اب بھی پاپولر ہیں، جیسے جیک اینٹونوف کے ایکس پر پانچ لاکھ سے زیادہ فالورز جبکہ نئے آنے والے میوزیشن نرشڈ بائی ٹائم کے صرف تین ہزار۔

نیو یارکر کے مطابق اب بڑی تعداد کا مطلب اہمیت یا اثر و رسوخ نہیں رہا۔ یہ اب پرانی بات ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق اب الٹا ہو رہا ہے کم فالورز والے اکاؤنٹس کو عزت مل رہی ہے۔

رائٹر ایملی سنڈبرگ نے اپنے نیوزلیٹر میں ایئر میل کی نئی ایڈیٹر جولیا ویٹیل کی تعریف کی کہ ان کے پرائیویٹ انسٹاگرام پر 500 سے کم فالورز ہیں۔ فیشن نیوزلیٹر بلیک برڈ اسپائی پلین میں جونا وینر نے سٹائلسٹ لوٹا وولکووا کی تعریف کی جو بےترتیب پوسٹ کرتی ہیں جیسے دریا کا سادہ منظر یا اسٹوریج لاکرز کی تصویر اور انہیں صرف چند سو لائکس ملتے ہیں حالانکہ ان کے نصف ملین فالورز ہیں۔ پہلے یہ شرمناک سمجھا جاتا تھا اب یہ کون پروا کرتا ہے؟ کا رویہ دکھاتا ہے۔

نیو یارکر کے مطابق یہ لوگ سوشل میڈیا کی دوڑ سے باہر کامیاب ہیں، اس لیے دوسرے حسد کرتے ہیں۔ سنڈبرگ کہتی ہیں جب سب اپنی زندگی آن لائن ڈالتے ہیں تو جو بغیر اس کے کامیاب ہو، اس پر غصہ آتا ہے۔ اپنی زیادتی شرم محسوس ہوتی ہے۔ جو پلیٹ فارمز سے آزاد ہیں وہ مالی اور جذباتی طور پر مستحکم لگتے ہیں۔

نیو یارکر کے مطابق یہ تبدیلی کورونا کے بعد آئی۔ لاک ڈاؤن میں لوگوں نے گھر بیٹھ کر اسکرینز دیکھیں، ٹک ٹاک پر راتوں رات ملینز فالورز بننے لگے۔ انسٹاگرام نے ریلز سے یہی کیاکہ لیکن اب توجہ کم ہوگئی۔گریس کلارک کہتی ہیں کہ فالورز جمع کرنا اب مہنگا نہیں یعنی مشکل یا نایاب نہیں۔ دھوکہ دینا آسان ہے۔

نیو یارکر کے مطابق لوگ یوٹیوب، پیٹریون جیسے چھوٹے پلیٹ فارمز پر جا رہے ہیں جہاں سچے مداح ملتے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق روایتی سوشل میڈیا پر وقت 2022 میں عروج پر تھا اب کم ہو رہا ہے۔ بڑے پلیٹ فارمز پر زیادہ تر خاموش صارفین ہیں جو ان فالو نہیں کرتے۔

نیو یارکر کے مطابق سوشل میڈیا اب کاروبار بن گیا ہے جوکہ پہلے شوق تھا اب پوڈکاسٹ، نیوزلیٹر، کرپٹو اسکیمز، شاپنگ لنکس کی تشہیر ہوتی ہے۔ سارم زمان کہتے ہیں سب کچھ لین دین بن گیا۔ ایکس پر لوگ بریکنگ نیوز پر پولی مارکیٹ کی بیٹس شیئر کر کے اپنا فائدہ بڑھاتے ہیں۔ فالورز جمع کرنا اب پیسہ کمانے سے الگ نہیں۔اب زیادہ فالورز کا جنون ختم ہو رہا ہے۔ کم فالورز، سادہ پوسٹس اور سوشل میڈیا سے دوری یہ نئی عزت اور سچائی کی علامت بن رہی ہے۔

Related Posts