ستائیسویں آئینی ترمیم سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئیں، ذرائع کے مطابق اے این پی، بی این پی اور ایم کیو ایم نے اپنی اپنی تجاویز کمیٹی میں پیش کیں۔
اجلاس میں آئینی عدالتوں کے قیام کی شق کی منظوری دے دی گئی جبکہ زیر التوا مقدمات سے متعلق ایک اہم ترمیم بھی منظور کر لی گئی ہے۔
ترمیم کے مطابق زیر سماعت مقدمات میں فیصلہ دینے کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کر دی گئی ہے اور اگر ایک سال تک کسی مقدمے کی پیروی نہ ہو تو اسے نمٹایا ہوا تصور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اے این پی نے صوبے کا نام خیبر پختونخوا سے بدل کر صرف پختونخوا رکھنے کی تجویز پیش کی۔ پارٹی کا مؤقف تھا کہ خیبر ایک ضلع ہے اور دوسرے صوبوں کے ناموں کے ساتھ اضلاع کے نام شامل نہیں کیے جاتے اس لیے صوبے کا نام صرف پختونخوا ہونا چاہیے۔
اسی طرح ایم کیو ایم کی جانب سے بلدیاتی نمائندوں کو براہِ راست فنڈز دینے سے متعلق ترمیم پر بھی اتفاق کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافے پر اصولی اتفاق ہوگیا ہے تاہم یہ طے ہونا ابھی باقی ہے کہ کتنی نئی نشستیں شامل کی جائیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








