یورپ میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت اور فرقہ واریت کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ آئرلینڈ کے علاقے کاؤنٹی گالوے کے شہر ٹوم میں ایک مسلم طالب علم عرفان الدین غازی پر نسل پرست افراد نے بہیمانہ تشدد کیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفان الدین غازی کو چند مقامی نوجوانوں نے صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد طالب علم شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
School student Irfan Uddin Gazi, a regular participant in Quran competitions, was ganged up on and assaulted in an anti-Muslim attack by 2 fellow school students
Taking place in Tuam, Ireland, the boy was cornered, slapped and punched as he pleaded with the assailants not to hit… pic.twitter.com/8SRo6JX7Ag
— Xavier (@xavierjp__) November 8, 2025
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عرفان اسکول سے واپس گھر جا رہا تھا۔ حملہ آوروں نے پہلے اسے نسلی اور مذہبی گالیوں کا نشانہ بنایا، پھر مارپیٹ شروع کر دی۔ مقامی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ چند سالوں میں یورپ کے مختلف ممالک بشمول فرانس، جرمنی، برطانیہ اور سویڈن — میں مسلمانوں پر نفرت انگیز حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کئی مسلمان خواتین کو حجاب پہننے پر ہراساں کیا گیا جبکہ مساجد اور اسلامی مراکز پر حملے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یورپ میں اسلاموفوبیا تیزی سے بڑھ رہا ہے اور حکومتوں کو مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ایسے واقعات کا خاتمہ ہو سکے۔
یہ افسوسناک واقعہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ مغربی معاشروں میں بھی مذہب کی بنیاد پر تعصب اور نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








