نیشنل سائبر کرائم اینڈ انفارمیشن ایجنسی (NCCIA) نے کال سینٹرز سے بھتہ وصولی اور غیر قانونی دھندے میں ملوث ہونے کے الزام میں 13 افسران کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان اعوان جو توہین مذہب کے مقدمات دیکھتے تھے، کروڑوں روپے بھتہ لینے کے کیس میں گرفتار ہوئے ہیں۔ مقدمے میں دو ایڈیشنل ڈائریکٹرز، شہزاد حیدر اور عامر نذیر بھی شامل ہیں۔ ملزمان مختلف کال سینٹرز سے ماہانہ بھتہ وصول کرتے اور یہ رقم فرنٹ مین کے ذریعے وصول کرائی جاتی تھی۔
کال سینٹرز سے ماہانہ کروڑوں روپے کا بھتہ اور غیر قانونی دھندے کی پشت پناہی کے الزامات پر نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے مزید 13 افسران پر مقدمہ درج۔
مقدمہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں دو ایڈیشنل ڈائریکٹرز شہزاد حیدر اور عامر نذیر مقدمہ بھی… pic.twitter.com/IsdvfcwLQT
— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) November 9, 2025
راولپنڈی میں 15 غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ تقریباً 15 ملین روپے وصول کیے جاتے تھے۔ ستمبر 2024 سے اپریل 2025 کے دوران تقریباً 120 ملین روپے جمع کیے گئے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں ایک کال سینٹر پر چھاپہ مار کر ڈیل کی گئی جس میں 14 چینی شہری بھی گرفتار ہوئے۔
این سی سی آئی اے کرپشن سکینڈل میں ہوشربا انکشافات۔
راولپنڈی میں 15غیر قانونی کال سنٹرز سے 15ملین روپے ماھانہ وصول کیا جاتا تھا۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر کی ٹیم یہ رقم فرنٹ میں حسن امیر کے زریعے وصول کرتی۔
120ملین ستمبر 2024سے اپریل 2025تک وصول کئے گئے۔
سب انسپکٹر بلال نے… pic.twitter.com/8sSYaR83vX— Ali Imran Abbasi (@aliimranabbasi) November 9, 2025
ملزم سب انسپکٹر صارم علی نے فرنٹ مین محی الدین کے ذریعے چینی شہری کیلون کی بیوی عریبہ رباب سے رابطہ کیا اور ان کی رہائی کے لیے بھتہ وصول کیا۔ عریبہ نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے 8 ملین روپے دیے، جبکہ دیگر 13 شہریوں کے لیے 12 ملین روپے مزید وصول کیے گئے۔ چھاپے سے کل تقریباً 21 ملین روپے حاصل ہوئے، جو ملزمان میں تقسیم کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ دیگر تحقیقات بھی جاری ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








