کال سینٹر بھتہ اسکینڈل! نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے 13 افسران کے خلاف مقدمہ، جانیں ہوش ربا انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

نیشنل سائبر کرائم اینڈ انفارمیشن ایجنسی (NCCIA) نے کال سینٹرز سے بھتہ وصولی اور غیر قانونی دھندے میں ملوث ہونے کے الزام میں 13 افسران کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان اعوان جو توہین مذہب کے مقدمات دیکھتے تھے، کروڑوں روپے بھتہ لینے کے کیس میں گرفتار ہوئے ہیں۔ مقدمے میں دو ایڈیشنل ڈائریکٹرز، شہزاد حیدر اور عامر نذیر بھی شامل ہیں۔ ملزمان مختلف کال سینٹرز سے ماہانہ بھتہ وصول کرتے اور یہ رقم فرنٹ مین کے ذریعے وصول کرائی جاتی تھی۔

راولپنڈی میں 15 غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ تقریباً 15 ملین روپے وصول کیے جاتے تھے۔ ستمبر 2024 سے اپریل 2025 کے دوران تقریباً 120 ملین روپے جمع کیے گئے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں ایک کال سینٹر پر چھاپہ مار کر ڈیل کی گئی جس میں 14 چینی شہری بھی گرفتار ہوئے۔

ملزم سب انسپکٹر صارم علی نے فرنٹ مین محی الدین کے ذریعے چینی شہری کیلون کی بیوی عریبہ رباب سے رابطہ کیا اور ان کی رہائی کے لیے بھتہ وصول کیا۔ عریبہ نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے 8 ملین روپے دیے، جبکہ دیگر 13 شہریوں کے لیے 12 ملین روپے مزید وصول کیے گئے۔ چھاپے سے کل تقریباً 21 ملین روپے حاصل ہوئے، جو ملزمان میں تقسیم کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ دیگر تحقیقات بھی جاری ہیں۔

Related Posts