عوام کا قطرہ قطرہ نچوڑ لیا! جانتے ہیں حکومت نے پیٹرول پر ٹیکسز سے کتنا پیسہ کمالیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

International Oil Prices Down 4% As Top Exporters Plan to Pause Production
ONLINE / FILE PHOTO

وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں عوام سے پٹرولیم لیوی کی مد میں اضافی 110 ارب روپے وصول کیے ہیں۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق اس سہ ماہی کے دوران پٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولیاں 371 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ برس اسی مدت کے دوران 261 ارب روپے تھیں۔ اس طرح پٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں تقریباً 42اعشاریہ 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط کے مطابق پاکستان نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار کے 1اعشاریہ 6 فیصد کے برابر بجٹ سرپلس حاصل کیا جبکہ بنیادی توازن مجموعی قومی پیداوار کے 2اعشاریہ 7 فیصد کے برابر ریکارڈ کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 1377 ارب روپے رہیں جبکہ دفاعی اخراجات 447 ارب روپے تک پہنچے۔ حکومت کی کل آمدن 6200 ارب روپے ریکارڈ کی گئی جبکہ مجموعی اخراجات 4080 ارب روپے رہے۔

جولائی سے ستمبر کے دوران حکومت نے 2119 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے، جبکہ اسی دوران مرکزی بینک نے 2428 ارب روپے کا منافع حاصل کیا۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کاربن لیوی کی مد میں 10 ارب روپے اور برقی گاڑیوں کی اپنائی جانے والی پالیسی کی مد میں 3 ارب روپے وصول کیے گئے۔

پنشن کی ادائیگیوں پر 249 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ سول حکومت کے انتظامی اخراجات 161 ارب روپے رہے۔ اسی طرح حکومت نے 119 ارب روپے کی سبسڈیز کی مد میں ادائیگیاں کیں۔ اندرونِ ملک قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 1176 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 1775 ارب روپے منتقل کیے گئے جن میں پنجاب کے لیے 882 ارب روپے، سندھ کے لیے 441 ارب روپے، خیبر پختونخوا کے لیے 287 ارب روپے اور بلوچستان کے لیے 164 ارب روپے شامل ہیں۔

تمام چاروں صوبوں نے پہلی سہ ماہی میں بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا۔ پنجاب نے 441 ارب روپے، سندھ نے 208 ارب روپے، خیبر پختونخوا نے 77 ارب روپے اور بلوچستان نے 53 ارب روپے کا بجٹ سرپلس ظاہر کیا، جو ملک کے مالیاتی حالات میں بہتری کا ایک مثبت اشارہ ہے۔

Related Posts