پاکستان کے سیاسی اور عوامی منظرنامے میں ایک بار پھر دلچسپ سیاسی گفتگو نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں کو تفریح کا موقع فراہم کردیا ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر وقار زکا نے حال ہی میں کہا کہ وہ بزرگوں کے تجربے سے سیکھنا چاہتے ہیں اور آصف علی زرداری اور شہباز شریف جیسے رہنما ہمیں یہ سکھائیں کہ انتخابات کیسے لڑنے ہیں۔
انہوں نے اپنے خیالات میں یہ بھی شامل کیا کہ معروف اینکر اقرار الحسن کو چاہیے کہ وہ ان کی پارٹی میں شامل ہو جائیں اور وزیراعلیٰ سندھ کے عہدے پر فائز ہوں جبکہ وہ خود وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
اس کے جواب میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے اپنی منفرد اور طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اچھا بچو، ایسا ہے گھر کے اندر ہی کھیلنا۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا صارفین کو بھی بھرپور موقع فراہم کیا کہ وہ اپنے طنزیہ اور مزاحیہ ردعمل ظاہر کریں۔
صارفین نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ خود بچپن میں اپنے دوست کے ساتھ اسی طرح کھیل کر یہ سیاسی مناظرات سمجھنے کی کوشش کرتے تھے، جیسے ایک عمران خان اور دوسرا وسیم اکرام۔
تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ سیاست الیکشن کی نہیں، بلکہ عہدوں کی تقسیم کی بات ہے، اور فوج نے عہدے بانٹنے کا عمل طے کرنا ہے۔
اچھا بچو ایسا ہے گھر کے اندر ہی کھیلنا۔ pic.twitter.com/5BNwFRw4hy
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) November 9, 2025
شہباز گل سے کہا گیا کہ صدر کا عہدہ انہیں دے دینا چاہیے کیونکہ لوٹ مار، سیل، اور دیگر سیاسی استثناء کی صورت حال موجود ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے مزید طنز کیا کہ پارٹی جوائن کرنے کی جگہ نمک پر زخم ڈالنے کی ضرورت نہیں اور باہر جا کر کھیلنے، شور مچانے یا کپڑے گندے کرنے سے بچنا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ طویل چھڑی کے مقابلے کی خوش فہمیاں اب بھی عروج پر ہیں جس میں سیاسی اور مزاحیہ گفتگو کے امتزاج نے منظرنامے کو مزید رنگین بنایا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








