دو تہائی اکثریت! 27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے منظور

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistan’s 27th Constitutional Amendment introduces Federal Constitutional Court and Chief of Defense Forces
PHOTO: INDIATODAY

اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور ہو گئی، ایوان بالا میں اس ترمیم کے حق میں 64 ووٹ آئے جس کے بعد یہ ترمیم نہ صرف عدالتی اصلاحات بلکہ وفاقی ہم آہنگی کے فروغ اور مضبوط دفاعی ڈھانچے کی طرف ایک بڑا قدم قرار دی جا رہی ہے۔

اس ترمیم کا بنیادی مقصد سپریم کورٹ پر بڑھتے بوجھ کو کم کرنا، وفاقی آئینی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور صوبوں کی شمولیت کو مزید مؤثر بنانا ہے، جسے حکومت ایک جدید آئینی طرزِ حکمرانی کی طرف تبدیلی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ترتیب وار آگے بڑھا، اگرچہ اپوزیشن نے ابتدا ہی میں شدید احتجاج، نعرے بازی، واک آؤٹ اور مسودے کی کاپیاں پھاڑ کر اپنی مزاحمت کا اظہار کیا۔

اس ماحول کے باوجود چیئرمین سینیٹ نے ہر شق کی انفرادی منظوری کے عمل کو مکمل کیا، جو آخرکار حکومتی اتحاد کی بھرپور حمایت کے ساتھ کامیابی سے ہمکنار ہوا۔

اس سے قبل ترمیم کا مسودہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں دو روزہ غور و خوض کے بعد مزید بہتر بنایا گیا تھا، جس میں اپوزیشن نے شرکت نہ کی مگر شریک ارکان کے درمیان اتفاقِ رائے سے کئی اہم ترامیم شامل کی گئیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین فاروق ایچ نائیک نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مشترکہ کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی بنیادی تجویز متفقہ طور پر منظور کی، جس میں متوازن صوبائی نمائندگی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی نشست بھی شامل کی گئی ہے۔

عدالت کے ججز کے لیے اعلیٰ عدلیہ میں خدمات کا تجربہ سات سے کم کرکے پانچ سال کرنا بھی ترمیم کا حصہ بنا، تاکہ زیادہ اہل ججز کو اس عدالت میں شامل ہونے کا موقع مل سکے۔

ترمیم کے تحت ایف سی سی میں تقرریوں کے لیے سینیارٹی کے اصول برقرار رہیں گے جبکہ بار یا ہائی کورٹ سے نئے آنے والے ججز حلف کے بعد نئی سینیارٹی پر فائز ہوں گے اور ایک ہی دن کے حلف میں عمر کی بنیاد پر ترجیح دی جائے گی۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں بھی ترامیم شامل کی گئیں، جن کے ذریعے اسپیکر قومی اسمبلی کو خواتین، غیر مسلموں کے ساتھ اب تکنوکریٹس کی نامزدگی کا اختیار بھی مل گیا ہے۔

ایف سی سی کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف باقاعدہ درخواست کی بنیاد پر حاصل ہوگا، تاکہ اس عمل میں شفافیت اور جانچ پڑتال یقینی بنائی جا سکے۔ مالیاتی معاملات میں اسٹے آرڈرز ایک سال میں خود بخود ختم ہو جائیں گے، جس سے برسوں سے رکے مقدمات نمٹانے میں مدد ملے گی۔

عدالتی منتقلی کا عمل اب صدرِ مملکت کے بجائے جوڈیشل کمیشن کے دائرہ اختیار میں ہوگا، تاکہ عدلیہ، مقننہ، سول سوسائٹی اور انتظامیہ کے نمائندوں کی شمولیت کے ساتھ اجتماعی فیصلہ سازی ممکن ہو۔

منتقلی کی درخواست مسترد ہونے پر سپریم جوڈیشل کونسل معاملے کا جائزہ لے گی اور اگر وجوہات غلط ثابت ہوں تو ریٹائرمنٹ کی کارروائی بھی ہو سکے گی۔

بحث کے دوران مسلم لیگ ن کے سینیٹر آغا شہازیب درانی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع شدہ 50 ہزار سے زائد مقدمات کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ایف سی سی ناگزیر ہے، یہ اختیارات کی کمی نہیں بلکہ انصاف کی تیزی کے لیے اختیارات کی تقسیم ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ یہ ترمیم جمہوریت اور 18ویں ترمیم کے وفاقی فلسفے کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے دفاعی امور سے متعلق آرٹیکل 243 میں مجوزہ تبدیلیوں کو بھی سراہا اور سرحدی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ممتاز فوجی قیادت کو اعزازی عہدوں سے سرفراز کرنا اصولی بات ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں نے اس اصلاحات کو ملکی اتحاد، دفاعی ہم آہنگی اور پارلیمانی بالادستی کی جانب مثبت سفر قرار دیا۔

اس دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان کی جانب سے غیر متوقع حمایت نے حکومتی کیمپ کو غیر معمولی تقویت فراہم کی۔

Related Posts