ممتاز عالمِ دین مولانا مفتی تقی عثمانی نے صدر مملکت کو مقدمات سے تا حیات استثنا دینے کی تجویز پر سخت ردعمل دیا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں مفتی تقی عثمانی نے صدارتی استثنا کو دین اسلام کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں کوئی بھی شخص، خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز ہو، عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ خلفائے راشدین کی مثالیں سب کے سامنے ہیں۔
اسلام میں کوئی بھی شخص چاھے وہ کتنے بڑے عہدے پر ھو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ھو سکتا خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیاگیاتھا جو اسلام کے خلاف تھا اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے…
— Muhammad Taqi Usmani (Official) (@muftitaqiusmani) November 10, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیا گیا تھا جو اسلام کے خلاف تھا، اور اب کسی شخص کو تاحیات یہ استثنا دینا شریعت اور آئین دونوں کی روح کے منافی ہے۔ یہ اقدام ملک کے لیے نہایت شرمناک ثابت ہوگا۔
مفتی تقی عثمانی نے ارکانِ پارلیمان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس گناہ کو اپنے سر نہ لیں اور ملک کو اس بے عزتی سے بچائیں۔
ان کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے، جہاں مختلف طبقات اس تجویز کے اسلامی اور اخلاقی مضمرات پر اظہارِ تشویش کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








