حادثہ یا دہشتگردی؟ فضائیہ کا سی 130 فضا میں ٹکرے ٹکرے ہوگیا! 20 فوجی شہید، دیکھیں خوفناک مناظر کی ویڈیوز

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ترکی کی فضائیہ کا ایک فوجی کارگو طیارہ آذربائیجان سے ترکی جاتے ہوئے جارجیا کی سرحد کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں کم از کم 20 افراد سوار تھے جن میں عملہ بھی شامل تھا۔

ترک وزارتِ دفاع کے مطابق یہ حادثہ بدھ کو پیش آیا جب ترک ایئر فورس کا C-130E طیارہ آذربائیجان کے شہر گنجہ سے پرواز کے تقریباً 30 منٹ بعد ریڈار سے غائب ہو گیا۔ طیارہ 24 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا جب اچانک اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

حادثے کی تفصیل

عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارہ فضا میں ہی ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ مرکزی حصہ اور پروں کے ساتھ fuselage زمین کی طرف گھومتا ہوا گرتا دکھائی دیا جس کے بعد زمین پر دھواں اٹھتا نظر آیا۔

جارجیائی حکام کے مطابق طیارہ آذربائیجان کی سرحد سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور گرا۔ امدادی ٹیموں کو فوری طور پر جائے حادثہ پر روانہ کر دیا گیا ہے اور تلاش و بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔

ترک حکام کا ردِعمل

ترک وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں 20 اہلکار سوار تھے جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنے شہداء کے لیے دعا گو ہیں، اللہ ہمیں اس سانحے سے کم سے کم نقصان کے ساتھ نکالے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے بھی ترکی سے اظہارِ تعزیت کیا اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردی کا پیغام بھیجا۔

طیارے کے بارے میں معلومات

حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ C-130E Hercules ماڈل تھا، جو امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا تیار کردہ ہے۔ یہ طیارہ ترکی نے ماضی میں سعودی عرب سے خریدا تھا اور اسے جدید ERCIYES پروگرام کے تحت اپ گریڈ بھی کیا گیا تھا۔

ترکی کی فضائیہ کے پاس اس وقت C-130B اور C-130E طیاروں کا مجموعہ موجود ہے جبکہ رواں سال برطانیہ سے 12 نئے C-130J طیارے بھی خریدے گئے ہیں۔

تحقیقات جاری

ترک اور جارجیائی حکام نے حادثے کی مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طیارہ فضا میں ٹوٹنے کی اصل وجہ کیا تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے سے قبل طیارے میں تکنیکی خرابی یا آگ لگنے کے آثار پائے گئے تھے تاہم ابھی کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے جس کے بارے میں مزید تفصیلات آنے والے اگلے 24 گھنٹوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

Related Posts