اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے بعد سکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان میں جاری سری لنکن ٹیم کا دورہ حسبِ شیڈول جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بدھ کے روز بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دوسرے ون ڈے میچ کو منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ 16 سری لنکن کھلاڑی وطن واپس جانے کے خواہشمند ہیں تاہم اب دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سیریز معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور سری لنکن کرکٹ بورڈ کے حکام کے مطابق دونوں ادارے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ کھلاڑیوں کو اطمینان دلایا جا سکے اور صورتحال کو مستحکم رکھا جا سکے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم، جہاں باقی میچز کھیلے جائیں گے، کے اطراف سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ سکیورٹی اداروں نے ٹیموں کے ہوٹل اور اسٹیڈیم کے گرد اضافی چیک پوسٹس، کیمروں اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔
پی سی بی کے ترجمان کے مطابق تمام حفاظتی اقدامات عالمی معیار کے مطابق کیے جا رہے ہیں تاکہ سیریز بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔
سری لنکن بورڈ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے دورے کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام نے کہا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود کرکٹ کا تسلسل ہی اصل ہمت اور دوستی کی علامت ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کرکٹ تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔
مارچ 2009 میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے قریب سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد چھ پولیس اہلکار اور دو شہری جاں بحق جبکہ سات کھلاڑی زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد کئی سال تک پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند رہے۔
آٹھ سال بعد 2017 میں سری لنکا پہلی بڑی ٹیم بنی جس نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی بنیاد رکھی۔
اُس وقت سری لنکن کرکٹ بورڈ کے صدر تھلانگا سوماتھی پالا نے کہا تھا کہ پاکستان ایک عظیم کرکٹ کھیلنے والا ملک ہے، جس نے عالمی کرکٹ اور کھیلوں کے لیے بہت کچھ کیا ہے، ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔
یہی دوستی اور یکجہتی آج ایک بار پھر ظاہر ہو رہی ہے، جب دونوں ممالک سکیورٹی خدشات کے باوجود کرکٹ کے تسلسل کو دوستی اور حوصلے کی علامت کے طور پر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








