پاکستان کی سیاسی فضا جمعے کے روز اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے حتمی فیصلے کا اعلان کردیا۔
اس اعلان کے ساتھ ہی ملک میں جاری آئینی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
ترمیم کے نفاذ کے بعد دو سپریم کورٹ ججز کے تاریخی استعفوں نے سیاسی منظرنامے میں ہلچل پیدا کردی تھی۔ دونوں ججز نے عدالتی اور عسکری ڈھانچے میں متنازع تبدیلیوں کو اپنی رخصتی کی بنیادی وجہ قرار دیا، جس نے اپوزیشن کے موقف کو مزید تقویت فراہم کی۔
اپوزیشن کے مرکزی دھڑے کی قیادت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پاس ہے جس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ترمیم کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں۔
ناقدین کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات کو کمزور کرتی ہے اور وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے کردار کو محدود کرتی ہے۔
اہم ترین
پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس اپوزیشن لابی میں جاری
اجلاس کی صدارت محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں۔
اجلاس میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر سمیت ارکان اسمبلی شریک
اجلاس میں اہم ترین فیصلے متوقع pic.twitter.com/JKvNIhu1nZ
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) November 13, 2025
ساتھ ہی یہ ترمیم چیف آف ڈیفنس فورسز کو غیر معمولی اور آئینی تحفظ یافتہ اختیارات بخشتی ہے، جو شہری بالادستی اور جمہوری ڈھانچے کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کرتی ہے۔
پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی نے مستعفی ہونے والے ججز کے اقدام کو سراہتے ہوئے عدلیہ کے دیگر اراکین سے بھی اصولی مؤقف اپنانے کی اپیل کی ہے۔
ان کے مطابق سپریم کورٹ کے کردار اور اختیارات کا تحفظ ملک کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
ٹی ٹی اے پی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ آج سے ملک کے بڑے شہروں میں مسلسل اور منظم احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
ان مظاہروں کا مقصد عوام کو متحرک کرنا، عدالتی خودمختاری کے تحفظ کا مطالبہ بلند کرنا اور 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف وسیع تر سیاسی دباؤ قائم کرنا ہے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تحریک پاکستان میں جاری آئینی بحران کو ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں لے جا سکتی ہے، جس کے اثرات ملک کے سیاسی استحکام پر نمایاں طور پر مرتب ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








