اپوزیشن اتحاد کا 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاج کا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Opposition alliance to finalize countrywide protests against 27th Amendment
ONLINE

پاکستان کی سیاسی فضا جمعے کے روز اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے حتمی فیصلے کا اعلان کردیا۔

اس اعلان کے ساتھ ہی ملک میں جاری آئینی کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

ترمیم کے نفاذ کے بعد دو سپریم کورٹ ججز کے تاریخی استعفوں نے سیاسی منظرنامے میں ہلچل پیدا کردی تھی۔ دونوں ججز نے عدالتی اور عسکری ڈھانچے میں متنازع تبدیلیوں کو اپنی رخصتی کی بنیادی وجہ قرار دیا، جس نے اپوزیشن کے موقف کو مزید تقویت فراہم کی۔

اپوزیشن کے مرکزی دھڑے کی قیادت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پاس ہے جس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ترمیم کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں۔

ناقدین کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات کو کمزور کرتی ہے اور وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے کردار کو محدود کرتی ہے۔

 

ساتھ ہی یہ ترمیم چیف آف ڈیفنس فورسز کو غیر معمولی اور آئینی تحفظ یافتہ اختیارات بخشتی ہے، جو شہری بالادستی اور جمہوری ڈھانچے کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کرتی ہے۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی نے مستعفی ہونے والے ججز کے اقدام کو سراہتے ہوئے عدلیہ کے دیگر اراکین سے بھی اصولی مؤقف اپنانے کی اپیل کی ہے۔

ان کے مطابق سپریم کورٹ کے کردار اور اختیارات کا تحفظ ملک کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

ٹی ٹی اے پی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ آج سے ملک کے بڑے شہروں میں مسلسل اور منظم احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

ان مظاہروں کا مقصد عوام کو متحرک کرنا، عدالتی خودمختاری کے تحفظ کا مطالبہ بلند کرنا اور 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف وسیع تر سیاسی دباؤ قائم کرنا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق یہ تحریک پاکستان میں جاری آئینی بحران کو ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں لے جا سکتی ہے، جس کے اثرات ملک کے سیاسی استحکام پر نمایاں طور پر مرتب ہوں گے۔

Related Posts