مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت اس وقت دیکھنے میں آئی جب اے آئی آرٹسٹ بریکنگ رسٹ کے مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ گیت واک مائی واک نے بل بورڈ کنٹری ڈیجیٹل سانگ سیلز چارٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے نئی تاریخ رقم کردی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مکمل اے آئی جنریٹڈ کنٹری گانے نے امریکہ کے کسی بڑے میوزک چارٹ میں ٹاپ اسپاٹ حاصل کیا ہو، جس نے عالمی موسیقی کی صنعت میں ہلچل مچا دی ہے۔
یہ گیت اپنے منفرد انداز، باغیانہ رنگ اور آؤٹ لا اسٹائل کے بولوں کے باعث تیزی سے مقبول ہوا، جس نے اس بات کو ثابت کیا کہ الگورتھم کے ذریعے تیار کردہ موسیقی بھی تجارتی سطح پر نہ صرف کامیاب ہوسکتی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر مقبولیت بھی حاصل کرسکتی ہے۔
بریکنگ رسٹ کی آن لائن موجودگی جس میں اے آئی سے بنائی گئی بصری شناخت شامل ہے اور انسان گلوکار کی کوئی حقیقی شناخت موجود نہیں نے تخلیق، ملکیت اور فن کی حقیقی تعریف پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ رجحان مستقبل میں میوزک انڈسٹری کے بنیادی تصورات کو تبدیل کرسکتا ہے۔
تنازعات کے باوجود اس گانے نے لاکھوں سامعین کے دل جیتے۔ مداحوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ گانا کس نے بنایا بلکہ یہ ہے کہ گانا کیسا ہے۔
یہی سوچ اس کامیابی کے پیچھے بنیادی وجہ بنی جس کے نتیجے میں بریکنگ رسٹ نے اسپاٹی فائی پر ماہانہ دو ملین سے زائد لسٹنرز حاصل کرلیے اور سوشل میڈیا پر بھی زبردست ردعمل دیکھا گیا۔
اگرچہ یہ چارٹ صرف ڈیجیٹل خریداری کی بنیاد پر ترتیب دیا جاتا ہے مگر اس کامیابی نے ایک بڑے رجحان کو واضح کر دیا ہے،اب اے آئی سے تیار کردہ گانے باقاعدہ طور پر مقابلہ کر رہے ہیں اور انسانی فنکاروں کے برابر کھڑے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بریکنگ رسٹ اور دیگر ورچوئل فنکاروں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت تخلیقی عمل، ذہنی ملکیت، اور اصل فنکار کی تعریف کے حوالے سے پوری انڈسٹری کو نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کر دے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








