اسلام آباد: ملک بھر میں ڈیزل کی مبینہ قلت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ 16 نومبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی وجہ سے صورتحال مزید تشویش ناک ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف شہروں میں ڈیزل کی سپلائی روک دی گئی ہے جس کے باعث متعدد علاقوں میں قلت پیدا ہوگئی ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں آئل کمپنیاں ڈیزل کی سپلائی معطل کرچکی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ڈیزل کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔
پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق نجی آئل کمپنیاں گزشتہ تین روز سے ڈیزل کی سپلائی فراہم نہیں کر رہیں جبکہ پی ایس او کی جانب سے فراہم کردہ ڈیزل ملک گیر طلب پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
پٹرولیم ڈیلرز نے دعویٰ کیا ہے کہ نجی آئل کمپنیاں مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کر رہی ہیں تاکہ قیمتوں میں متوقع اضافے سے قبل زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ اس ممکنہ بڑھتی ہوئی کمی نے ٹرانسپورٹ سیکٹر اور زرعی صارفین میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق 16 نومبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح ردوبدل متوقع ہے، جس کے تحت ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 60 پیسے فی لیٹر تک اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ پٹرول کی قیمت میں 1 روپے 96 پیسے فی لیٹر کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 8 روپے 82 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔
اسلام آباد میں اوگرا کی جانب سے اگلے نرخوں کا ورکنگ پیپر 15 نومبر کو پٹرولیم ڈویژن بھجوایا جائے گا جس کے بعد پٹرولیم ڈویژن اور وزارتِ خزانہ مشترکہ رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو ارسال کریں گے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارتِ خزانہ نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








