کراچی یونیورسٹی کے کیمپس میں آوارہ کتوں نے دو بچوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پانچ سالہ بچہ شدید طور پر زخمی ہو گیا، اس کے چہرے پر گہرے زخم آئے، جبکہ ایک کمسن بچی حورین کے پاؤں پر بھی کتے نے کاٹ لیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کو لکھے گئے خط میں میڈیکل آفیسر نے تصدیق کی کہ ننھے بچے پر کتوں نے حملہ کیا تھا اور اس کے چہرے پر سنگین چوٹیں آئی ہیں۔
افسر نے یہ بھی بتایا کہ حورین کو بھی آوارہ کتے نے کاٹا ہے اور یونیورسٹی حکام سے فوری طور پر کیمپس میں بڑھتے ہوئے آوارہ کتوں کے مسئلے کو حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
زخمی بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں یونیورسٹی کی ڈاگ کنٹرول مہم روک دی گئی تھی، جس کی وجہ سے کراچی یونیورسٹی میں آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ پورے شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات ہوگئی ہے، شہر کا کوئی ٹاون ایسا نہیں جہاں آوارہ کتوں کے غول کے غول نہ گھوم رہے ہوں۔ ان کتوں سے اسکول جاتے بچے اور کام کاج کیلئے نکلی ہوئی خواتین کو بڑا خطرہ ہے اور آئے دن سگ گزیدگی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








