ایک ایسے موقع پر جب غزہ کی صورتحال کے باعث دنیا بھر میں اسرائیل کیخلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، لندن میں پاکستانی اور اسرائیلی حکام کی ملاقات نے بڑے پیمانے پر عوامی غیض و غضب کو جنم دیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے اسرائیل کے محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل مائیکل اِزہاکوف نے لندن میں ایک سیاحتی میلے میں وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر سیاحت سردار یاسر الیاس خان کے ساتھ ملاقات کی اور ہاتھ ملایا۔
اس ملاقات کی وائرل ویڈیو میں اسرائیلی حکام کو پاکستانی پویلین پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں اور گفتگو کر رہے ہیں۔
ویڈیو میں سردار یاسر الیاس خان کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ نہیں، نہیں، نہیں۔ ہم ہمیشہ ہر چیز کے لیے کھلے ہیں۔
اگرچہ کوئی ثبوت موجود نہیں کہ اس ملاقات کے دوران کوئی رسمی مذاکرات ہوئے، لیکن دونوں حکام کے ایک دوسرے سے سلام دعا کے تبادلے نے آن لائن صارفین میں کافی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
اس ملاقات کے حوالے سے حکومت کا موقف
مشیر سیاحت سردار یاسر الیاس نے اس حوالے سے وضاحت کی ہے کہ اسرائیلی محکمہ سیاحت کے حکام سے یہ ملاقات لندن میں ورلڈ ٹریول مارکیٹ میں ہوئی۔
سردار یاسر کے مطابق اسرائیلی وفد بغیر کسی پیشگی اطلاع کے پاکستانی پویلین پر آیا اور وہ اپنے کوٹس پر اسرائیلی بیجز یا جھنڈے پہنے ہوئے تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اس ملاقات کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔ سردار یاسر نے کہا کہ یہ ملاقات نہ تو رسمی تھی اور نہ ہی پہلے سے طے شدہ تھی۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی اس معاملے پر سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں اس ملاقات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ جس شخص کا حوالہ دیا جا رہا ہے وہ ایک عوامی شخصیت ہیں۔ میں درخواست کروں گا کہ اس معاملے کے بارے میں براہ راست ان سے سوال کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








