غزہ میں موسم کی پہلی بارش نے مشکلات کا شکار فلسطینیوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی بمباری کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد جن خیموں میں پناہ لیے ہوئے تھے وہ شدید بارش کے بعد پانی میں ڈوب گئے۔
رات گئے لوگ عارضی خیموں میں سو رہے تھے کہ اچانک موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ کچھ ہی دیر میں خیموں میں پانی بھر گیا اور فلسطینیوں کے کمبل، لحاف اور بچی کھچی ضروری چیزیں بھی خراب ہو گئیں۔ بارش رکنے کے بعد لوگ اپنی بھیگی ہوئی اشیاء سنبھالتے اور خیموں سے پانی نکالتے نظر آئے۔
Heavy rain in Gaza City flooded a tent camp overnight, soaking displaced residents and their belongings.
Some 90% of Gazans are displaced after Israeli attacks destroyed most of the enclave’s housing. pic.twitter.com/2VEIv7CwVD
— DW News (@dwnews) November 14, 2025
ایک معمر فلسطینی خاتون نے دکھ بھرے لہجے میں بتایا کہ یہ خیمے اس کے بیٹے نے بنائے تھے مگر اب وہ شہید ہو چکا ہے اور آج بارش نے اس پناہ گاہ کو بھی اجاڑ دیا۔وہ بے بسی سے پوچھتی تھیں کہ میں اب کہاں جاؤں؟ کس در پر جاؤں؟
ایک اور خاتون نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور اس کے چھوٹے بچے پوری رات سرد بارش میں بھیگتے رہے۔ بارش کا پانی خیمے کے اندر بہتا رہا اور انہیں بچانے کے لیے کوئی ٹھوس سہولت موجود نہیں تھی۔
This is the situation in the displacement tents in Gaza as winter begins and the rain starts to fall. pic.twitter.com/IP7QE2fCjZ
— TIMES OF GAZA (@Timesofgaza) November 14, 2025
کھلے میدانوں میں رہنے والے ان بے گھر خاندانوں کے پاس کوئی انتظام نہیں ہے اور اسی لیے مرد و خواتین خود ہی پانی نکالنے اور خیمے کسی طرح خشک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بارش کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے اور جگہ جگہ لوگ کپکپاتے دکھائی دیتے ہیں۔ بے گھر فلسطینیوں کی بڑی تعداد کھلے آسمان تلے سخت سرد موسم کا سامنا کرنے پر مجبور ہے جہاں نہ گرم جگہ میسر ہے اور نہ ہی بارش اور سردی سے بچانے کے لیے مناسب پناہ گاہیں موجود ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








