اب کہاں جاؤں؟ کس در پر جاؤں؟ غزہ کی خاتون کی درد بھری دہائیاں! امت مسلمہ خاموش

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

غزہ میں موسم کی پہلی بارش نے مشکلات کا شکار فلسطینیوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی بمباری کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد جن خیموں میں پناہ لیے ہوئے تھے وہ شدید بارش کے بعد پانی میں ڈوب گئے۔

رات گئے لوگ عارضی خیموں میں سو رہے تھے کہ اچانک موسلادھار بارش شروع ہوگئی۔ کچھ ہی دیر میں خیموں میں پانی بھر گیا اور فلسطینیوں کے کمبل، لحاف اور بچی کھچی ضروری چیزیں بھی خراب ہو گئیں۔ بارش رکنے کے بعد لوگ اپنی بھیگی ہوئی اشیاء سنبھالتے اور خیموں سے پانی نکالتے نظر آئے۔

ایک معمر فلسطینی خاتون نے دکھ بھرے لہجے میں بتایا کہ یہ خیمے اس کے بیٹے نے بنائے تھے مگر اب وہ شہید ہو چکا ہے اور آج بارش نے اس پناہ گاہ کو بھی اجاڑ دیا۔وہ بے بسی سے پوچھتی تھیں کہ میں اب کہاں جاؤں؟ کس در پر جاؤں؟

ایک اور خاتون نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور اس کے چھوٹے بچے پوری رات سرد بارش میں بھیگتے رہے۔ بارش کا پانی خیمے کے اندر بہتا رہا اور انہیں بچانے کے لیے کوئی ٹھوس سہولت موجود نہیں تھی۔

 

کھلے میدانوں میں رہنے والے ان بے گھر خاندانوں کے پاس کوئی انتظام نہیں ہے اور اسی لیے مرد و خواتین خود ہی پانی نکالنے اور خیمے کسی طرح خشک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بارش کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے اور جگہ جگہ لوگ کپکپاتے دکھائی دیتے ہیں۔ بے گھر فلسطینیوں کی بڑی تعداد کھلے آسمان تلے سخت سرد موسم کا سامنا کرنے پر مجبور ہے جہاں نہ گرم جگہ میسر ہے اور نہ ہی بارش اور سردی سے بچانے کے لیے مناسب پناہ گاہیں موجود ہیں۔

Related Posts