خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں تنخواہوں اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی پر پابندی عائد کرتے ہوئے واضح اعلان کیا ہے کہ آئندہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن صرف اور صرف ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو جاری کی جائیں گی۔
یہ فیصلہ صوبائی خزانے میں پیدا ہونے والی انتظامی اور مالی مشکلات کے باعث کیا گیا ہے۔
صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ اکتوبر کے آخری ایام، یعنی 27، 28 اور 29 تاریخ کو راست نظام کے تحت صوبائی اکاؤنٹ نمبر ون (نان فوڈ) سے تنخواہوں کی ادائیگی بغیر پیشگی اطلاع کے کر دی گئی تھی۔
اس دوران وفاقی حصہ صوبے کو موصول نہیں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں صوبائی اکاؤنٹ کا بیلنس منفی ہو گیا اور صوبائی حکومت مشکل صورتحال سے دوچار ہوئی۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ وفاقی خزانہ کے قواعد کے پیرا 217 کے مطابق سرکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہ اور مقررہ الاؤنسز کے بل ماہ کے آخری ورکنگ ڈے پر دستخط کیے جا سکتے ہیں تاہم ادائیگی اگلے بلاکنگ ڈے پر ہونا لازم ہے۔
اس اصول کے پیش نظر صوبائی حکومت نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تنخواہوں، الاؤنسز اور پینشن کی ادائیگی ہر ماہ کے پہلے ورکنگ ڈے پر ہی کی جائے۔
محکمہ خزانہ نے تمام سرکاری اداروں، محکموں اور متعلقہ دفاتر کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ نئے ضابطے پر بغیر کسی استثنا کے عمل کیا جائے تاکہ مستقبل میں اسی نوعیت کی مالی مشکلات اور انتظامی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
اس اقدام کا مقصد صوبائی مالیاتی نظام کو مؤثر، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے تاکہ ادائیگیوں کے تسلسل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








