بشریٰ بی بی کی کردار کشی اور سنگین الزامات پر پی ٹی آئی کا بڑا فیصلہ

تازہ ترین

تازہ ترین

PTI pledges legal action against report about Bushra Bibi's 'influence' on Imran
ONLINE

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے برطانوی جریدے کی اس رپورٹ کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے جس میں سابق خاتون اوّل بشریٰ بی بی کے عمران خان پر مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کا ذکر کیا گیا ہے۔

پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اس رپورٹ کو اشتعال انگیز، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد عمران خان اور ان کی اہلیہ کی کردار کشی کرنا ہے۔

بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے بھی بشریٰ بی بی پر مختلف الزامات لگائے گئے، جن میں سے بعض مقدمات میں وہ بری ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی جھوٹی رپورٹس نہ تو بشریٰ بی بی کو توڑ سکتی ہیں اور نہ ہی پارٹی کے بیانیے کو متاثر کر سکتی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ جیل میں ہیں اور غیر قانونی حراست کا سامنا کر رہی ہیں۔

دوسری جانب بیرسٹر محمد علی سیف نے بھی رپورٹ کو من گھڑت اور سیاسی مقاصد کے تحت تیار کردہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف منظم بدنامی مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق خاتون اوّل غیر قانونی قید کے باوجود غیر معمولی حوصلہ دکھا رہی ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں عطااللہ تارڑ اور طلال چوہدری نے رپورٹ پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ بشریٰ بی بی نے عمران خان کے دورِ حکومت میں سیاسی، انتظامی اور حکومتی فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا۔

عطااللہ تارڑ کے مطابق عمران خان نے اپنے فیصلوں کو روحانیت کے پردے میں چھپایا جبکہ بڑے معاشی اور سیاسی فیصلے ان کی اہلیہ کی مشاورت سے کیے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جن الزامات کو عمران خان اپنے مخالفین پر لگاتے رہے، وہ اب عالمی سطح پر ان کے اپنے خلاف سامنے آ رہے ہیں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ سابق خاتون اوّل نے حکومتی معاملات میں فعال کردار ادا کیا اور اہم تقرریوں میں مداخلت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض فیصلوں میں غیر معمولی روحانی اثرات اور دعاؤں اور عملیات کا حوالہ دیا جاتا رہا، جو پہلے بھی ملکی میڈیا میں موضوع رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے گوگی پنکی نیٹ ورک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سابق خاتون اوّل اور ان کی قریبی ساتھی فرح شہزادی المعروف فرح گوگی مالی بے ضابطگیوں، رہائشی لین دین اور 190 ملین پاؤنڈ سیٹلمنٹ کیس جیسے معاملات میں جڑے رہے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ سیاسی فیصلوں کے بدلے ذاتی مفادات سے جڑا ہوا تھا۔

یاد رہے کہ برطانوی جریدے کی رپورٹ میں سابق وزیراعظم اور بشریٰ بی بی کی نجی زندگی، روحانی مشاورت، شادی سے قبل کے تعلق، سابق شوہر کے تحفظات اور سیاسی فیصلوں میں ان کی مبینہ مداخلت پر مختلف حوالوں سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ میں انٹیلی جنس حکام، سابق کابینہ ارکان، گھریلو عملے اور سیاسی شخصیات کے دعووں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے مطابق بعض معلومات عمران خان تک روحانی وساطت کے ذریعے پہنچائی جاتی تھیں۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کرپشن کیسز میں جیل میں ہیں، جس کے باعث پی ٹی آئی کے اندر اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا سابق خاتون اوّل اب بھی پارٹی چیئرمین کے سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق پارٹی کے کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ عمران خان کو کسی صورت سیاسی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ بعض رہنماؤں کا ماننا ہے کہ بشریٰ بی بی سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے مفاہمت کی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دے سکتی ہیں۔

Related Posts