فیصلہ ہوچکا، کراچی الگ صوبہ، دسمبر میں سندھ کو تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا، بڑا دعویٰ سامنے آگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

سندھ کی تقسیم کے دعوی سامنے آگئے، علامتی فوٹو

دسمبر میں صوبہ سندھ کو تین نئے صوبوں میں تقسیم کرنے سے متعلق ایک ہنگامہ خیز دعویٰ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔

یہ دعویٰ کراچی کے ایک وکیل رہنما کی وائرل ویڈیو میں سامنے آیا ہے، جہاں کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس مبینہ ترمیم کا ذکر کر رہے ہیں۔

وائرل ویڈیو میں عامر نواز وڑائچ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دسمبر میں ایک آئینی ترمیم پیش کی جائے گی جس کے تحت سندھ کو تین الگ صوبوں صوبہ سندھ، صوبہ کراچی اور صوبہ مہران میں تقسیم کیا جائے گا۔

اپنی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہم کوئی کارڈ نہیں کھیل رہے، ہم نے اس زمین کا نمک کھایا ہے، اب اسے حلال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کی تقسیم ایک طے شدہ عمل کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ سندھ کی وحدت پر ہرگز سمجھوتہ نہ کریں اور کسی قیمت پر صوبے کو تقسیم نہ ہونے دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دسمبر کے بعد آپ کراچی جائیں گے تو کراچی سندھ نہیں ہوگا، الگ صوبہ بن چکا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ کراچی الگ صوبہ بنا دیا گیا تو سندھ کے باسیوں کا مستقبل ایک محدود علاقے میں قید ہو کر رہ جائے گا۔

واضح رہے کہ صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی قیاس آرائیوں نے اس بحث کو مزید ہوا دے دی ہے۔ معروف اینکر پرسن کامران خان نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگلی آئینی ترمیم میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام، مالی و انتظامی اختیارات کی مقامی حکومتوں کو منتقلی اور صوبائی فنانس کمیشن کو آئینی تحفظ دینے جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔

صحافی زاہد گشکوری کے مطابق یہ ترمیم الیکشن کمیشن، پارلیمانی مدت، دوہری شہریت اور نئے صوبائی سرحدی ڈھانچے سے متعلق امور کو بھی شامل ہوسکتی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی جانے والی غیر مصدقہ پوسٹس میں تو یہاں تک دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 12 نئے صوبوں تک پر بات چل رہی ہے۔ تاہم اب تک ایسی کسی بھی بڑے پیمانے کی تبدیلی کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

Related Posts