الفلاح گروپ کے چیئرمین گرفتار! دہشتگردوں کی مالی مدد اور منی لانڈرنگ کا الزام عائد

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارت کی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے الفلاح گروپ کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کو منی لانڈرنگ کے اہم کیس میں گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی گروپ کی مالی بے ضابطگیوں، جعلی اور گمراہ کن دعووں کے الزامات کے تحت کی گئی۔ جواد احمد صدیقی 2014 سے فریدآباد میں الفلاح یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں۔

واقعہ کا مختصر جائزہ

بھارتی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق جواد احمد صدیقی کی گرفتاری دہلی پولیس کرائم برانچ کی دو ایف آئی آرز سے منسلک ہے جو الفلاح یونیورسٹی کی مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہیں۔

ED Arrests Al-Falah Group Chairman Jawad Ahmed Siddiqui Over Fraudulent  Accreditation Claims

بھارتی حکام کے مطابق چھاپوں کے دوران ای ڈی کو بڑے پیمانے پر فنڈز کی منتقلی کے ثبوت ملے۔ انہوں نے 48 لاکھ روپے نقد، ڈیجیٹل آلات، دستاویزات ضبط کیے اور کئی شیئر کمپنیوں کا پتہ لگایا جو منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا حصہ بتائی جاتی ہیں۔

کیس کی تفصیلات

جواد احمد صدیقی 1995 سے الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے مینیجنگ ٹرسٹی ہیں اور 2014 سے الفلاح یونیورسٹی (فیروز آباد، دھوج روڈ) کے چانسلر ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق الفلاح گروپ کے میڈیکل کالج میں مبینہ طور پر ملک گیر دھماکوں کی سازش تیار کی گئی۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کالج کے فیکلٹی ممبر عمر نبی کو لال قلعہ دھماکے کا خودکش بمبار قرار دیا گیا اور امونیم نائٹریٹ کی ترسیل و منصوبہ بندی کالج کے احاطے میں کی گئی۔ لال قلعہ کے قریب استعمال ہونے والی ہنڈائی i20 کار تقریباً 20 دن تک کیمپس میں پارک رہی تھی۔

ایک سینئر ای ڈی افسر نے بتایاکہ جواد احمد صدیقی ٹرسٹ اور اس کے تعلیمی نیٹ ورک پر مکمل کنٹرول رکھتے تھے۔ 1990 کی دہائی کے آخر سے گروپ کی تیزی سے توسیع ہوئی مگر مالی اعداد و شمار اس کی تائید نہیں کرتے ہیں۔

Related Posts