پاک بھارت جنگ ہتھیاروں کا مارکیٹنگ شو؟ امریکی کانگریس کی چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آگئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی کانگریس کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ چین نے مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مختصر تنازعے کو اپنے جدید فوجی ہتھیاروں کی جانچ اور عالمی مارکیٹ میں ان کی تشہیر کا موقع بنا لیا۔

رپورٹ کے مطابق چین نے اس موقع کا فائدہ اٹھا کر مغربی ممالک کے ہتھیاروں خاص طور پر فرانسیسی رافیل طیاروں کے مقابلے میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو بہتر دکھانے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روز تک جاری رہنے والی جھڑپیں چین کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہوئیں۔ اس دوران چین نے اپنے جی-35 جنگی طیاروں اور دیگر دفاعی سسٹموں کی کارکردگی کا عملی امتحان لیا۔

امریکی ماہرین نے بتایا کہ چین نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کا استعمال کیا جو مبینہ طور پر بھارتی رافیل طیاروں کی تباہی دکھاتی تھیں تاکہ اپنے ہتھیاروں کی برتری کو اجاگر کیا جا سکے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ چین نے اس تنازعے کے دوران بھارت کی دفاعی خریداریوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی خاص طور پر رافیل طیاروں کے سودوں کو روکنے کے لیے۔ اس کے علاوہ انڈونیشیا جیسے خطے کے دیگر ممالک کو بھی رافیل کے بجائے چینی جی-35 طیاروں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں چین کو کامیابی بھی ملی۔

یہ تنازعہ مئی 2025 میں شروع ہوا جب بھارت نے اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا جواب دیتے ہوئے آپریشن سندور شروع کیا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں پاکستان کے زیر کنٹرول علاقوں میں جھڑپیں ہوئیں، جو ایل او سی (کنٹرول لائن) پر کشیدگی کا باعث بنیں۔ چین نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔

رپورٹ کے مطابق چین نے پاکستان کو اپنے جدید ہتھیاروں کی فروخت بڑھائی جن میں جی-35 طیارے، کے جے-500 طیارے، اور میزائل دفاعی سسٹم شامل ہیں۔ اس کے بدلے میں چین نے پاکستان میں اپنی معاشی اور فوجی موجودگی کو فروغ دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین نے اس تنازعے کو اپنی دفاعی صنعت کے لیے ایک لائیو ٹیسٹنگ گراؤنڈ کے طور پر استعمال کیا جو اس کی عالمی مارکیٹ میں حصہ بڑھانے کی کوشش ہے۔

بھارت اور پاکستان کا ردعمل

بھارت نے چین کے اس عمل کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپنی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا تاہم دونوں ممالک نے ابھی تک اس رپورٹ پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔

یاد ر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مواقع پر پاک بھارت جنگ کے اعداد شمار پیش کر چکے ہیں جس میں انہوں نے عالممی برادری پر واضح کیا ہے پاکستان آرمی نے بھارت کو بدترین شکست سے دوچار کیا اور ان کے 7 جنگی جہاز مار گرائے۔

Related Posts