وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے قیام امن کی خاطر فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکنے کے لیے آئندہ دو ماہ تک لاؤڈ اسپیکر، آتش بازی، عوامی اجتماعات اور کئی دیگر سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحبزادہ محمد یوسف کی جانب سے جاری متعدد نوٹیفکیشنز کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں اذان اور جمعے کے خطبے کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر، ساونڈ سسٹمز اور ایمپلی فائر کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔
احکامات کے تحت کیسِٹ پلیئرز، سی ڈی, ڈی وی ڈی سسٹمز اور ایسے تمام ذرائع پر بھی پابندی ہوگی جنہیں فرقہ وارانہ یا قابل اعتراض تقاریر نشر کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انتظامیہ نے مزید حکم دیا کہ اخبارات یا ایسے کاغذات جن پر قرآنی آیات لکھی ہوں، انہیں کسی بھی قسم کی پیکنگ یا لپیٹنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ایک الگ حکم نامے میں پٹاخوں اور آتش بازی کو ذخیرہ کرنے، خریدوفروخت یا استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح اسلحے کی نمائش یا لے کر چلنے پر بھی پابندی ہوگی، تاہم افواج پاکستان، رینجرز، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
مزید برآں انتظامیہ نے راول اور سمِلی ڈیم میں ہر قسم کی کشتی رانی (بوٹنگ) پر پابندی عائد کر دی ہے اور مقامی مقامات پر پٹرول کی غیر قانونی فروخت یا غیر محفوظ ذخیرہ کرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
ڈرون (UAVs) کے استعمال کے ساتھ ساتھ دھماکوں یا مشینوں کے ذریعے پتھر نکالنے پر بھی پابندی ہوگی۔
ایسے ہینڈ بلز، پمفلٹس، پوسٹرز یا وال چاکنگ کی تقسیم اور تشہیر پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو کسی بھی مذہبی مسلک کی دل آزاری کا باعث بنے۔
اس کے علاوہ، پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے تمام اجتماعات، جلوس اور مظاہرے اسلام آباد کی حدود میں ممنوع قرار دیے گئے ہیں۔
مچھروں کی افزائش روکنے کے لیے انتظامیہ نے حکم دیا ہے کہ کباڑ خانوں، عمارتوں اور عوامی مقامات پر پانی جمع ہونے نہیں دیا جائے گا جبکہ بغیر اجازت ٹائروں کی نمائش یا ذخیرہ کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ تمام پابندیاں دو ماہ تک نافذ العمل رہیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








