فیصل آباد کی فیکٹری میں دھماکے سے 20افراد جاں بحق ہوگئے، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فیکٹری میں بوائلر سرے سے موجود ہی نہیں تھا بلکہ آتشگیر مادّے سے کام چلایاجاتا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق فیکٹری میں آتشگیر مادّہ ذخیرہ کیا گیا تھا، فیکٹری مالک نے حکومت سے این او سی حاصل نہیں کیا جبکہ یہ حادثہ غیر تربیت یافتہ عملے اور غفلت کے باعث پیش آیا۔
اس سے قبل کہا گیا تھا کہ گیس سلنڈر لیکیج اور شارٹ سرکٹ کے باعث کیمیکل نے آگ پکڑی، جبکہ فیکٹری میں بوائلر نصب نہیں تھا۔ مختلف کیمیکلز استعمال کیے جاتے تھے۔
دھماکے کے نتیجے میں فیکٹری کے قریب رہائش پذیر 4خاندان اجڑ گئے۔ جاں بحق افراد میں خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 7افراد شامل ہیں جن میں 62سالہ شفیق، اہلیہ، ایک بیٹا، 3 پوتے اور 1 پوتی شامل تھے۔ ایک اور خاندان میں ماں، 3 بیتیاں اور بیٹا بھی جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔
اسی طرح تیسرے خاندان کا باپ 3 بیٹوں سمیت چل بسا، فیکٹری کے 2 مزدور بھائی بھی جاں بحق ہوگئے۔ واقعے کے بعد ڈی جی انڈسٹریز پنجاب نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر تحقیقات کاحکم دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گیس سلنڈر میں لیکیج اور شارٹ سرکٹ سے کیمیکل نے آگ پکڑ لی تھی۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ منصورآباد میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت 9دفعات کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔
مقدمے میں فیکٹری مالک قیصر چغتائی سمیت 7افراد نامزد ملزمان ہیں، جن میں منیجر بلال، خانساماں خالد، ورکر زین اور عطا محمد کے علاوہ دیگر 2 ملازمین شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالک نے خود گرفتاری دے دی ہے جبکہ منیجر، خانساماں، زین اور عطا محمد کو گرفتار کرلیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








