پاکستان اور طالبان کے درمیان دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کے تین ادوار کی ناکامی اور کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ہی ترکی کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اگلے ہفتے اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔
ترکی کے سفیر برائے پاکستان عرفان نظیراوغلو نے اعلان کیا کہ اس وفد میں ترکی کے خفیہ ادارے کے سربراہ اور چند سینئر عہدیدار شامل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی کے وزیر توانائی الپ ارسلان بیرکتار بھی اس وفد کے ساتھ ہوں گے۔
اس دورے کا اعلان ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے باکو میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران کیا گیا تھا۔
عرفان نظیراوغلو نے انقرہ کی سکیورٹی خدشات پر زور دیتے ہوئے کہا: “ترکی شدید خواہاں ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی فرد یا گروہ کو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے داخل نہ ہونے دیا جائے اور اس ملک میں خونریزی نہ ہو۔ دونوں قومیں بھائیوں کی طرح ساتھ رہیں اور ترکی اس مقصد کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔”
ترکی اور قطر نے اب تک طالبان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، لیکن دوحہ اور استنبول میں تین دور مذاکرات بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوئے۔ اب ایران اور روس بھی دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ ایران طالبان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پر ایک علاقائی اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
اس وقت طالبان اور پاکستان کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات عملاً منقطع ہیں۔ طالبان کوشش کر رہے ہیں کہ دیگر ممالک کے ساتھ معاشی اور سفارتی تعلقات بڑھا کر پاکستان سے تعلقات کم ہونے کا خلاء پورا کریں۔ طالبان کے وزیر تجارت اس وقت بھارت میں موجود ہیں۔
طالبان کے عہدیدار متبادل تجارتی راستوں تک رسائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر تجارت طالبان بھارت کے سفر سے پہلے ایران بھی گئے تھے اور وہ ایران کی بندرگاہوں جیسے چابہار اور بندرعباس کو کراچی اور دیگر پاکستانی بندرگاہوں کا متبادل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ تعلقات کی معمول پر واپسی صرف اس وقت ممکن ہے جب طالبان خوارج خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان کے کنٹرول میں تعاون اور عملی عزم دکھائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








