مودی کی مسلم دشمن کارروائی، یاسین ملک 35سال پرانے کیس میں مرکزی ملزم قرار

تازہ ترین

تازہ ترین

یاسین ملک
(فوٹو: آن لائن)

بھارت کی نریندر مودی حکومت نے مسلم دشمن کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے حریت رہنما یاسین ملک کو 35سال پرانے کیس میں مرکزی ملزم قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق سربراہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ یاسین ملک کو ائیر فورس اہلکاروں کے قتل سے متعلق کیس میں مرکزی فائرر کے طور پر نشانہ بنایا گیا، جبکہ 1990 کے اس واقعے میں 4ائیر فورس اہلکار ہلاک جبکہ 22زخمی ہوگئے تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران 2 اہم گواہوں نے حریت رہنما یاسین ملک کو مرکزی فائرر کے طور پر شناخت کیا جبکہ دیگر ملزمان شوکت بخشی، ننا جی اور جاوید احمد کو بھی سانحے میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔ گواہوں میں سے ایک نے یاسین ملک کو پہچاننے کا دعویٰ کیا۔

بھارتی دارالحکومت دہلی کی بدنامِ زمانہ تیہاڑ جیل میں دہشت گردی فنڈنگ کیس میں عمر قید کی سزا بھگتنے والے حریت رہنما یاسین ملک ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ کیس کی آئندہ سماعت رواں ماہ 29 نومبر کو ہوگی۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مودی حکومت نے یاسین ملک کو نشانے پر رکھنے کی پالیسی انتقامی کارروائی کے طور پر اپنائی جبکہ کیس کی تیزرفتار سماعت اور 35سالہ پرانے واقعے کو تازہ بنا کر پیش کرنا مقامی مسلمانوں اور حریت قیادت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا حصہ ہے۔

Related Posts