اسرائیل کا بیروت پر حملہ، حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف ھیثم علی طباطبائی لقمہ اجل

تازہ ترین

تازہ ترین

Israel strikes Beirut, kills Hezbollah chief of staff in attack
ONLINE

بیروت: اسرائیلی فوج نے اتوار کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے حارت حریک پر فضائی حملہ کیا جس میں حزب اللہ کے قائم مقام چیف آف اسٹاف ھیثم علی طباطبائی جاں بحق ہو گئے ،لبنان کے وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ھیثم علی طباطبائی حزب اللہ کی اہم یونٹس کی قیادت کر رہے تھے اور مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ ممکنہ تصادم کے لیے اس کی اسلحہ بندی کی نگرانی کر رہے تھے۔

حملہ زدہ عمارت حارت حریک کے گنجان آباد علاقے میں نو منزلہ رہائشی بلاک تھی، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ تین میزائل عمارت کی تیسری اور چوتھی منزل پر لگے، جس سے نزدیکی گاڑیاں اور دیگر عمارات بھی متاثر ہوئیں۔

امریکی حکام کے مطابق حملہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیا گیا، اور انہیں صرف حملے کے بعد مطلع کیا گیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ حملے کے احکامات دیے گئے تھے اور بیان دیا کہ بیروت کے قلب میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف پر حملہ کیا جو دہشت گرد تنظیم کی اسلحہ بندی اور تجدید کی قیادت کر رہے تھے۔ اسرائیل ہر وقت اور ہر جگہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کارروائی کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

لبنانی صدر جوزف عون نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ لبنان اور اس کے عوام پر اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے سخت اور سنجیدہ اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان عالمی برادری سے اپنی ذمہ داری نبھانے کا مطالبہ دہراتا ہے۔

یہ حملہ مہینوں بعد بیروت کے مضافات پر پہلا بڑا حملہ ہے اور اسرائیل و حزب اللہ کے درمیان ایک نئے تصادم کا خطرہ پیدا کرتا ہے جبکہ لبنان پہلے ہی اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ خطے کو دوبارہ کھلے تصادم کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

Related Posts