اسکارلٹ جوہانسن نے اپنے کیریئر میں ہر صنف میں شاندار اداکاریاں پیش کی ہیں لیکن 2013 کی سائنس فکشن ہارر فلم انڈر دی اسکِن میں ان کی کارکردگی کو ناقدین آج بھی ان کے پورے کیریئر کی سب سے طاقتور، دل دہلا دینے والی اور بے خوف اداکاری قرار دیتے ہیں۔
اس فلم کے ہدایتکار جوناتھن گلیزر نے اسے جدید دور کی سرفہرست سائی فائی ہارر فلموں میں شمار کیا ہے۔
اس پراسرار اور بے حد پُراثر فلم میں اسکارلٹ جوہانسن ایک ایسے نامعلوم خلائی وجود کا کردار ادا کرتی ہیں جو ایک حسین عورت کا روپ دھار کر اسکاٹ لینڈ کی بارش زدہ سڑکوں پر تنہا مردوں کو لبھاتی ہے اور انہیں ایک اندوہناک، بے شکل خلا میں کھو دیتی ہے۔ فلم کی کہانی جتنی حیران کن ہے اسکارلٹ جوہانسن کی اداکاری اس سے کہیں زیادہ غیرمعمولی ہے۔
کم سے کم ڈائیلاگ کے ساتھ، وہ صرف نظر، جسمانی تاثر اور معمولی تبدیلیوں کے ذریعے پورا احساس منتقل کرتی ہیں۔ ایک لمحے ان کی کھلی، غیر جھپکنے والی آنکھیں سرد تجسس دکھاتی ہیں اور اگلے لمحے انسانیت کی ہلکی سی چنگاری۔ جیسے جیسے یہ شکاری انسانی لمس اور جذبات کا بوجھ محسوس کرنا شروع کرتی ہے، کردار بتدریج ایک تکلیف دہ تبدیلی سے گزرتا ہے۔
گلیزر کی بصیرت افروز ہدایت کاری، میکا لیوی کا سنسناتی ہوئی موسیقی اور فلم کے خوابناک، ماورائی مناظر جوہانسن کی کارکردگی کو مزید طاقت بخشتے ہیں۔
روٹن ٹماٹوز پر فلم کی ریٹنگ 84 فیصد ہے، جہاں ریویورز نے اسکارلٹ جوہانسن کو ناقابلِ فراموش ، غیرمعمولی اور کیریئر بیسٹ قرار دیا ہے۔
انڈر دی اسکِن نہ صرف سائنس فکشن ہارر کی بہترین فلموں میں شمار ہوتی ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ اسکارلٹ جوہانسن اپنی نسل کی عظیم ترین اداکاراؤں میں سے ایک ہیں۔ ان کی یہ اداکاری صرف فن نہیں بلکہ ایک جراتمند تجربہ ہے جس نے ان کی فنی میراث کو نئی بلندی بخشی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








