کوالالمپور: ملائیشین حکومت نے آئندہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے سے روکنے کا منصوبہ بنانے کا عندیہ دیا ہے جس کا مقصد بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
وزیرِ مواصلات فہمی فاضل نے اتوار کے روز کہا کہ حکومت آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک کے ماڈل کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ عمر کی حد نافذ کرنے کا مؤثر طریقہ اختیار کیا جا سکے۔
فہمی فاضل کے مطابق ہم امید کرتے ہیں کہ اگلے سال تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز حکومت کے اس فیصلے پر مکمل عمل کریں گے کہ 16 سال سے کم عمر افراد نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے۔
اگر حکومت، ادارے اور والدین اپنا کردار ادا کریں تو ہم ملائیشیا میں انٹرنیٹ کو تیز ہی نہیں بلکہ محفوظ بھی بنا سکتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ملائیشیا نے سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نگرانی سخت کی ہے۔ جنوری سے ملک میں ان پلیٹ فارمز اور میسیجنگ ایپس کیلئے لائسنس لازمی قرار دیا گیا ہے جن کے صارفین آٹھ ملین سے زیادہ ہوں۔
گزشتہ ماہ اراکینِ پارلیمنٹ نے بھی حکومت کے اس مجوزہ قانون کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ صارفین کی عمر کی درست تصدیق کیلئے باقاعدہ نظام تیار کیا جانا ضروری ہے۔
آسٹریلیا میں فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کو 10 دسمبر سے پہلے 16 سال سے کم عمر تمام صارفین کے اکاؤنٹس ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر بھاری جرمانے عائد ہوں گے۔
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسون بھی بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے سے متعلق قانون متعارف کرا رہے ہیں۔
اسی طرح ڈچ حکومت نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ 15 سال سے کم عمر بچوں کو ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ جیسی ایپس کے استعمال سے روکیں۔
دریں اثنا یورپی یونین کے پانچ ممالک ڈنمارک، فرانس، یونان، اٹلی اور اسپین ایک نئی ایج ویریفیکیشن ایپ کی آزمائش کر رہے ہیں تاکہ بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد تک رسائی سے روکا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








