کراچی اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کا رنگ اچانک سبز ہو جانے اور رات کو چمکنے کی وجہ سے مقامی افراد اور ماہی گیروں میں شدید اضطراب کا شکار ہوگئے۔ ابتدائی طور پر لوگوں نے اسے زہریلی آلودگی یا نقصان دہ الجی (شیل) کی موجودگی سمجھا جس سے مچھلیوں اور سمندری حیات کو خطرہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
پاکستان میں ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر نے وضاحت کی ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر قدرتی، بے ضرر اور موسمی واقعہ ہے۔ اس کی وجہ ایک چھوٹا تیرتا ہوا جاندار ہے جسے نوٹیلوکا سکینٹیلانز (Noctiluca scintillans) کہا جاتا ہے اور مقامی طور پر اسے سی اسپارکل (سمندری چمک) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ جاندار مختلف رنگوں میں نظر آ سکتا ہے جیسے سبز، سرخ، نارنجی یا بے رنگ، اور پاکستان کے ساحل پر سبز اور نارنجی رنگ سب سے زیادہ عام ہیں۔
ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ سی اسپارکل بے ضرر ہے جس سے مچھلیوں یا انسانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ یہ موسمی ہے اور عام طور پر سردیوں میں ہوتا ہے جب پانی کی سطح پر غذائی اجزاء (نیوٹریئنٹس) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
اس کے باوجود ڈبلیو ڈبلیو ایف نے خبردار کیا ہے کہ کراچی کے ساحلی علاقوں میں آلودگی ایک الگ اور سنگین مسئلہ ہے۔ ہر روز ہزاروں ٹن صنعتی اور گھریلو کوڑا کرکٹ، سیوریج، ٹھوس کچرا اور تیل کی آلودگی لیاری اور ملیر ندیوں کے ذریعے سمندر میں داخل ہو رہی ہے جو سمندری حیات، ماہی گیروں اور ساحلی کمیونٹیز کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ اس آلودگی کی وجہ سے مچھلیوں کی آبادی کم ہو رہی ہے، پانی کی کوالٹی خراب ہو رہی ہے اور صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ماہرین نے کہاکہ یہ قدرتی چمک خوبصورت تو ہے لیکن اصل خطرہ انسانی آلودگی ہے جو ہمارے سمندروں کو تباہ کر رہی ہے۔ حکومت اور لوگوں کو فوری طور پر آلودگی روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ ماہی گیروں نے بتایا کہ اس سبز پانی کی وجہ سے مچھلی پکڑنے میں کوئی فوری فرق نہیں پڑا لیکن وہ پریشان ہیں کہ یہ آلودگی کا اشارہ تو نہیں۔
کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
ڈبلیو ڈبلیو ایف نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ ساحلی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں، ندیوں کی صفائی کی جائے، اور عوام کو ماحولیاتی تعلیم دی جائے۔ اب تک اس قدرتی واقعے پر کوئی فوری کارروائی کی ضرورت نہیں لیکن آلودگی کے خلاف مہم تیز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واقعہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جہاں قدرتی اور انسانی عوامل مل کر مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








