اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی خوشخبری سامنے آئی ہے کیونکہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت ایک ماہ کے لیے بجلی 65 پیسے فی یونٹ تک سستی ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ درخواست سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے جس پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی آج سماعت کرے گی۔
اگر نیا ریلیف منظور ہو جاتا ہے تو اس کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔ درخواست اکتوبر کے فیول ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے دی گئی ہے۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر میں ملک میں پیدا ہونے والی مجموعی بجلی میں سے 27.36 فیصد حصہ ہائیڈروپاور کا تھا، مقامی کوئلے کا حصہ 12.76 فیصد اور درآمدی کوئلے کا 4.71 فیصد رہا۔
قدرتی گیس سے 9.16 فیصد، درآمدی آرایل این جی سے 19.72 فیصد جبکہ جوہری توانائی سے 22.13 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ پیداوار کے یہ تناسب مستقبل میں بجلی کے نرخوں پر مؤثر انداز میں اثر انداز ہوں گے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے روشن معیشت بجلی پیکیج کے نام سے صنعتی اور زرعی شعبوں کے لیے رعایتی بجلی کا جامع منصوبہ پیش کیا تھا۔
یہ منصوبہ اسلام آباد میں صنعتکاروں اور زرعی ماہرین کے وفد سے ملاقات کے دوران پیش کیا گیا جس کا مقصد دو اہم اقتصادی شعبوں کو فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔
اس پیکیج کے تحت صنعتوں اور کسانوں کو اکتوبر 2028 تک تین سال کے لیے اضافی یونٹس رعایتی نرخوں پر فراہم کیے جائیں گے۔
روشن معیشت بجلی پیکج کے تحت صنعتی شعبے کو اضافی بجلی 22.98 روپے فی یونٹ پر فراہم کی جائے گی، جبکہ اس وقت صنعتوں کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت 34 روپے ہے، جو آئندہ دنوں میں نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔
اسی طرح زرعی شعبے کے لیے بھی 38 روپے فی یونٹ کے موجودہ ریٹ میں واضح کمی کی جائے گی اور اضافی بجلی بھی رعایتی نرخوں پر میسر ہوگی۔
وزیراعظم کے مطابق اس اقدام کا مقصد پیداواری لاگت کم کرنا، اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کرنا اور ملک کی مجموعی معاشی بحالی کو ممکن بنانا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








