واشنگٹن میں فائرنگ کا واقعہ: نیشنل گارڈ کی خاتون اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی

تازہ ترین

تازہ ترین

National Guard woman dies after Washington shooting
ONLINE

واشنگٹن میں پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں شدید زخمی ہونے والی نیشنل گارڈ کی خاتون اہلکار بالآخر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی ہیں جس کے بعد امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے نئی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ وائٹ ہاؤس کے قریب پیش آیا تھا جہاں گزشتہ روز دو نیشنل گارڈ اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ فائرنگ کے فوراً بعد مشتبہ شخص رحمن اللہ نامی افغان شہری کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن امریکہ میں داخل ہو کر مسائل پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی ہے اور یہ کہ ملک کی سیکورٹی فورسز اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر قوم کی خدمت کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل گارڈ کی 20 سالہ خاتون اہلکار سارا بیکسٹرم اس حملے میں نشانہ بنیں اور شدید زخمی ہونے کے بعد آج انتقال کر گئیں۔

رپورٹ کے مطابق اسی واقعے میں زخمی ہونے والے دیگر نیشنل گارڈ اہلکار، 24 سالہ اینڈریو وولف، تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق ان کی حالت نازک ہے اور وہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ واقعہ ایسے وقت ہوا ہے جب بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امیگریشن اسکریننگ کی خامیاں سامنے آرہی ہیں اور اس واقعے نے ان نظامی نقائص کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ دنیا کی بہترین فوج اور جدید ترین دفاعی آلات رکھتا ہے، اور ملک ایسے اقدامات شروع کرنے والا ہے جن کے ذریعے وینزویلا کو بھی قابو میں رکھا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے 37 گھنٹے تک پرواز کر کے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا اور انہوں نے ان طیاروں کے پائلٹس سے ملاقات بھی کی جو ان کے بقول ٹام کروز کی طرح تھے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن میں پیش آنے والا یہ حملہ نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا سنگین واقعہ تھا جس کے بعد ملک میں سیکورٹی اور امیگریشن پالیسیوں کو دوبارہ پرکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکورٹی خدشات کے پیش نظر حکام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

Related Posts