امریکا میں کورونا ویکسین نے دس بچوں کی جان لے لی، پالیسی میں بڑی تبدیلی کا امکان

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

امریکا میں مبینہ طور پر کورونا ویکسین سے دس بچوں کی جان چلی گئی۔

یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے چیف میڈیکل اور سائنسی افسر ونے پرساد نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ کووڈ-19 ویکسینز ممکنہ طور پر دل کی سوزش سے ہلاک ہونے والے کم از کم 10 بچوں کی اموات میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

رویٹرز کے مطابق ایک میمو میں پرساد نے لکھا کہ یہ اموات ویکسینیشن سے متعلق ہیں۔ یہ ایک گہرا انکشاف ہے۔ پہلی بار امریکی ایف ڈی اے یہ تسلیم کرے گا کہ کووڈ-19 ویکسینز نے امریکی بچوں کی جان لی ہے۔

امریکی وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے کووڈ ویکسینز کے حوالے سے حکومتی پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ان تک رسائی صرف 65 سال سے زائد عمر کے افراد اور کمزور صحت کے حامل لوگوں تک محدود کر دی ہے۔ کینیڈی، جو برسوں سے ویکسین مخالف مہم چلانے کے لیے مشہور ہیں، ٹرمپ کے دورِ صدارت میں صحت کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کے بعد ویکسینز کو آٹزم سے جوڑنے اور قومی ویکسی نیشن پالیسی تبدیل کرنے کی کوششیں بھی کرتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں جب وبا پھوٹی اور بعد میں جو بائیڈن کے دور میں امریکی صحت حکام نے ان ویکسینز کو جان بچانے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے بھرپور حمایت کی تھی۔ کووڈ-19 ویکسینز 2020 میں جاری کی گئی تھیں۔

میمو میں بچوں کی صحت کی حالت یا ویکسین بنانے والی کمپنیوں کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ نتائج 2021 سے 2024 کے درمیان ہونے والی 96 اموات کے ابتدائی تجزیے پر مبنی ہیں، جن کے بارے میں پرساد کا کہنا تھا کہ “کم از کم 10 اموات کووڈ-19 ویکسینز سے متعلق ثابت ہوتی ہیں۔”

پرساد نے میمو میں لکھا کہ یہ پڑھنا مشکل ہے کہ 7 سے 16 سال کی عمر کے بچے شاید کووڈ ویکسینز کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے ہوں۔ انہوں نے ویکسین نگرانی کو مزید سخت کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایف ڈی اے کا یہ نیا جائزہ ابھی کسی سائنسی (پیئر ریویوڈ) جرنل میں شائع نہیں ہوا، جبکہ سی ڈی سی کی ویکسین کمیٹی آئندہ ہفتے اجلاس کرے گی۔

یو سی لا سان فرانسسکو کی قانون کی پروفیسر ڈورِت رائس، جو ویکسین اور قانون پر لکھتی ہیں، نے پرساد پر تنقید کی کہ وہ غیر شائع شدہ تحقیق اور نامعلوم محققین کی بنیاد پر سانس کی بیماریوں کی ویکسین کی منظوری کے طریقے میں تبدیلی کا عندیہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے ایکس پر لکھا کہ یہ اور بھی مسئلہ بنتا ہے کیونکہ ڈاکٹر پرساد کی مہارت ویکسین میں نہیں ہے، لیکن اگر وہ ویکسین ماہر بھی ہوتے تب بھی ایسا کرنا غلط ہوتا۔

پرساد، جو ایک آنکولوجسٹ ہیں اور کووڈ ویکسین اور ماسک مینڈیٹ کے کھلے ناقد رہے ہیں، ستمبر میں دوبارہ ایف ڈی اے کے چیف میڈیکل اور سائنسی افسر کے طور پر تعینات ہوئے۔ وہ ایف ڈی اے کے کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام کو نئے طبی اور سائنسی معاملات پر مشورہ دیتے ہیں جو ریگولیٹری سائنس اور عوامی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔

Related Posts