خیبر پختونخوا میں گورنر راج میں کتنی سچائی؟ گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھانڈا پھوڑ دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

KP governor Faisal Karim Kundi denies knowledge of governor’s rule
ONLINE

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ گورنر راج کے ممکنہ نفاذ سے متعلق وہ صرف میڈیا رپورٹس کے ذریعے سن رہے ہیں، اس سلسلے میں اب تک انہیں کسی قسم کی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر راج سے متعلق ایسی چہ مگوئیاں طویل عرصے سے جاری ہیں تاہم باضابطہ طور پر کوئی بات نہ ان سے کی گئی اور نہ ہی کوئی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ چلانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، گورنر آفس کا مقصد آئینی تقاضے پورے کرنا ہے نہ کہ انتظامی امور سنبھالنا۔

فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی مجموعی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان، انتظامی مسائل اور مجموعی فضا اس بات کی گنجائش نہیں چھوڑتی کہ کسی قسم کے بڑے پیمانے پر احتجاج یا بے چینی کو ابھارا جائے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ آئین میں گورنر راج کی شق موجود ہے، لیکن اس حوالے سے نہ انہیں اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی مشاورت ہوئی۔

گورنر نے مزید تصدیق کی کہ ان کی حالیہ ملاقات وزیراعظم سے ہوئی تاہم اس ملاقات میں گورنر راج یا کسی انتظامی تبدیلی سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اب تک نہ وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی ہدایت موصول ہوئی اور نہ ہی ان کے عہدے یا صوبے کی آئینی حیثیت میں کسی تبدیلی کا کوئی عندیہ ملا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاست میں کل کیا ہو جائے، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے گورنر خیبر پختونخوا کے عہدے کے لیے ممکنہ ناموں کی فہرست چھ ناموں تک پہنچ چکی ہے۔

Related Posts