دسمبر کی آمد کے ساتھ ہی نئے سال 2026ء کی آمد کا اعلان ہوگیا کہ یہ سال کا آخری مہینہ ہے اور جاتے ہوئے سال 2025ء میں سونے کی قیمتوں میں جتنا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، سال 2026ء میں بھی کچھ اسی قسم کے اتار چڑھاؤ کی توقع کی جارہی ہے۔
سال 2025 کی بات کی جائے تو ایک رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2025 کو پاکستان میں 24 قیراط ایک تولہ سونے کی قیمت 2لاکھ 81 ہزار 500روپے کی سطح پر تھی جبکہ 10گرام سونے کی قیمت 2لاکھ 41 ہزار 350روپے تھی۔
گزشتہ 11 ماہ میں سونے کی قیمت میں متعدد مرتبہ اتار چڑھاؤ آئے اور یکم دسمبر 2025 تک کی صورتحال یہ ہے کہ 24قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 4لاکھ 46ہزار 862روپے کی سطح پر ہے جبکہ 10گرام سونے کی قیمت 3لاکھ83ہزار 112 روپے ہے۔
اگر تجزیہ کیا جائے تو گزشتہ 11 ماہ کے دوران سونے کی فی تولہ قیمت میں 1لاکھ 65 ہزار 362 روپے کا اضافہ ہوا اور اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 1لاکھ 41 ہزار 762روپے کا اضافہ ہوا ہے، جسے سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ قرار دیا جاسکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ سال 2026 میں سونے کی قیمت میں کتنا اضافہ یا کمی ہوسکتی ہے؟ تو سال 2025 میں سونے کی قیمت میں اتنے بڑے اضافے کی توقع نہیں تھی جو ہوا اور اس کی وجہ یہ رہی کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہوئی اور پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی سونے کی مانگ میں اضافہ ہوا۔
اس کے ساتھ ساتھ سونے کی قیمت اس وقت بھی بڑھتی ہے جب عالمی سطح پر تنازعات میں اضافہ ہوتا ہے مثلاً غزہ جنگ، یوکرین پر روسی فوجی حملہ اور بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف آپریشن سندور پر مبنی محاذ آرائی جس کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا، تاہم غیر یقینی صورتحال کے باعث مہنگائی میں اضافہ ایک فطری رجحان بن جایا کرتا ہے۔
عالمی سطح پر سونے کی قیمت کی بات کی جائے تو تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 2026 کے وسط تک سونے کی قیمت 4500 ڈالرز فی اونس تک جاسکتی ہے، جو اس وقت 4ہزار245ڈالرز فی اونس کی سطح پر ہے اور اگر اسی شرح سے سونے کی مانگ بڑھتی ہی گئی تو سال 2026 کے اختتام تک سونے کی قیمت 5لاکھ سے تجاوز کرکے 6لاکھ کا ہندسہ بھی عبور کرسکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








