پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاج پر وفاقی درالحکومت اسلام آباد سمیت جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے جبکہ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144کے نفاذ کے بعد کسی بھی قسم کے احتجاج یا جلسے جلوس کی اجازت نہیں جبکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے انعقاد پر فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈی سی راولپنڈی حسن وقار چیمہ نے ضلع راولپنڈی میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔ دفعہ 144 کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 یکم سے 3 دسمبر تک نافذ رہے گی۔
دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد راولپنڈی میں بھی ہر قسم کے اجتماع، جلسے جلوس اور ریلی پر پابندی عائد رہے گی۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ ہیں جو مشترکہ کارروائیوں سے قیامِ امن یقینی بنائیں گے۔
تشویشناک طور پر دفعہ 144 کا نفاذ ایسے وقت عمل میں لایا گیا ہے جب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا احتجاج اور اڈیالہ جیل کی جانب مارچ کا اعلان کرچکے ہیں۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات نہیں کرائی گئی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے حال ہی میں عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے دھرنا بھی دیا تھا۔ بعد ازاں گزشتہ روز انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ہائیکورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے اور اڈیالہ جیل بھی جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








