پنجاب کو پولیس اسٹیٹ بنانے کا فیصلہ کرلیا؟ جہلم میں 5 پولیس اہلکاروں کی نہتے طالب علم پر تشدد کی ویڈیو وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

پنجاب کے ضلع جہلم میں تھانہ صدر کی حدود میں ایک طالب علم پر پولیس اہلکاروں کے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔

یہ واقعہ کم عمر بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ بچے ہمیشہ احترام، تحفظ اور ذمہ دارانہ برتاؤ کے مستحق ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلانے والے بچوں پر تو فوراً سخت کارروائیاں ہو جاتی ہیں لیکن ویڈیو کے باوجود شہری پر تشدد جیسے واقعات میں اکثر بروقت ایف آئی آر درج نہیں ہوتی اور نہ ہی روزنامچہ میں تفصیلات شامل کی جاتی ہیں۔

عوام کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،تاکہ مستقبل میں بچوں کے حقوق محفوظ رہ سکیں۔

سوشل میڈیا صارفین اور عوام نے کہا کہ پولیس کا کسی بچے پر ہاتھ اٹھانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انتہائی قابلِ مذمت بھی ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ویڈیو میں دکھائی دینے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت کے بعد متعلقہ اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش کے لیے ایس ڈی پی او صدر سرکل کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔

Related Posts