پنجاب کے ضلع جہلم میں تھانہ صدر کی حدود میں ایک طالب علم پر پولیس اہلکاروں کے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔
یہ واقعہ کم عمر بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ بچے ہمیشہ احترام، تحفظ اور ذمہ دارانہ برتاؤ کے مستحق ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلانے والے بچوں پر تو فوراً سخت کارروائیاں ہو جاتی ہیں لیکن ویڈیو کے باوجود شہری پر تشدد جیسے واقعات میں اکثر بروقت ایف آئی آر درج نہیں ہوتی اور نہ ہی روزنامچہ میں تفصیلات شامل کی جاتی ہیں۔
سٹوڈنٹ بچے پر تشدد کا نوٹس ہونا چاہیے.
یہ واقعہ انتہائی تشویشناک ہے اور کم عمر بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ہمارا ماننا ہے کہ بچوں کو تحفظ اور احترام ملنا چاہئے، اور پولیس کو ان کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہئے۔ مارپیٹ اور ظلم و ستم جیسے واقعات ناقابل قبول ہیں اور ان کے خلاف سخت… pic.twitter.com/VxBZi8PULs— DTE PUNJAB DSD (@DsdDte) December 1, 2025
عوام کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور تشدد میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،تاکہ مستقبل میں بچوں کے حقوق محفوظ رہ سکیں۔
سوشل میڈیا صارفین اور عوام نے کہا کہ پولیس کا کسی بچے پر ہاتھ اٹھانا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ انتہائی قابلِ مذمت بھی ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔
تھانہ صدر کے علاقہ میں طالب علم پر تشدد کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے معاملہ پر ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو کا فوری نوٹس
— JHELUM POLICE OFFICIAL (@police_jhelum) November 25, 2025
پولیس حکام کے مطابق ویڈیو میں دکھائی دینے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت کے بعد متعلقہ اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش کے لیے ایس ڈی پی او صدر سرکل کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








