کھلے مین ہولز موت کا کنواں بن گئے! 11 ماہ میں 23 قیمتی جانیں ضائع؛ میئر ذمہ دار نہ ہی وزیر اعلیٰ تو پھر کون؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی میں کھلے مین ہول انسانی جانوں کیلئے موت کا کنواں بن گئے ہیں، گزشتہ روز گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب تین سالہ ابراہیم ایک کھلے مین ہول میں گر کر زندگی کی بازی ہار گیا۔ بدقسمت بچے کی لاش 15 گھنٹے بعد بر آمد ہوئی۔

تین سالہ معصوم ابراہیم کی نا گہانی موت نے اس حساس مسئلے کو پھر سے اجاگر کردیا جبکہ سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، وزیر بلدیات اور سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شہر قائد میں بدترین گورنسس کے باعث رواں سال کے 11 ماہ میں 23 افراد جن میں زیادہ تر بچے تھے ایسی ہی کوتاہی کا نشانہ بن کر اپنی جانیں گنوا بیٹھیں ہیں۔

معروف سماجی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق ان واقعات میں 10 افراد کھلے مین ہولز میں گر کر جان سے گئے جبکہ 13 لوگوں کی موت نالوں میں گرنے سے ہوئی۔جاری کردہ معلومات کے مطابق یہ ہلاکتیں پورے سال میں شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آئیں۔

رواں سال کے آغاز میں ہی کئی بچے ان حادثات کا شکار ہوئے۔ جنوری میں شاہ فیصل کالونی میں 6 سالہ عباد، فروری میں کشمیر کالونی نمبر 3 میں 5 سالہ طیّب اور چند ہفتے بعد سرجانی ٹاؤن کی خدا کی بستی میں 3 سالہ اسداللہ مین ہول میں گر کر جان سے گئے۔ مارچ اور اپریل کے دوران بھی مختلف عمر کے افراد جن میں بچوں سے لے کر بڑوں تک شامل ہیں شہر کے مختلف علاقوں میں کھلے مین ہولز میں گر کر موت کے منہ میں جاتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق اگست اور ستمبر میں بھی متعدد واقعات پیش آئے جہاں کھلے مین ہولز اور نالوں نے کئی زندگیاں نگل لیں۔ اسی دوران سات سالہ اسماء، 38 سالہ الطاف، 48 سالہ عباس اور دیگر کئی شہری حادثات کا شکار ہوئے۔ بعض واقعات میں تو ایک ہی دن میں دو سے تین افراد جان سے گئے۔

اکتوبر اور نومبر میں بھی صورتحال بہتر نہ ہوئی۔ نصرت بھٹو کالونی میں تین سالہ عائشہ، کورنگی میں ایک نامعلوم شخص اور ماہِ نومبر کے آخر میں نیپا چورنگی کے قریب تین سالہ ابراہیم جیسے مزید حادثات نے شہر میں حفاظتی اقدامات کی کمی کو آشکار کر دیا۔

ان اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہے کہ کراچی میں کھلے مین ہول برسوں سے لوگوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ متعلقہ ادارے فوری اقدامات کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

Related Posts