بھارتی ریاست اتر پردیش (یوپی) کے ضلع دیوریا میں ایک دلہن نے رخصتی کے ساتھ ہی سسرال پہنچنے کے صرف 20 منٹ بعد شادی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے طلاق کا مطالبہ کردیا جسے شوہر اور سسرالیوں کو تسلیم کرنا پڑا۔ شادی کے تحائف بھی واپس کردئیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق یہ حیرت انگیز لیکن افسوسناک واقعہ گزشتہ ماہ 25نومبر کو بھارتی شہر دیوریا میں شادی کی شاندار تقریب کے ساتھ ہی رونما ہوا۔ تقریب کے دوران ہندو مذہب کے مطابق تمام رسومات کی ادائیگی کی گئی لیکن جب دلہن اپنے سسرال پہنچی تو اس نے اچانک ایک رسم کو روکا اور اپنے والدین کو بلوالیا۔
دلہن نے اپنے سسرالیوں کا رویہ غیر دوستانہ قرار دیا اور فیصلہ سنا دیا کہ وہ اپنے سسرال میں نہیں رہے گی۔ لڑکی کے والدین نے بھی ابتدائی طور پر سسرالیوں کا ساتھ دیتے ہوئے دلہن کو منانے کی کوشش کی لیکن یہ کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ جب بحث طول پکڑ گئی تو مقامی پنچایت کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
مقامی پنچائت نے دونوں فریقین کی بات سنی اور 5گھنٹوں کی مسلسل بحث و تکرار کے بعد دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے شادی ختم کردی گئی۔ شادی میں دئیے گئے تحائف اور دیگر اشیاء بھی واپس کی گئیں اور دلہن اسی روز اپنے والدین کے ہمراہ واپس اپنے گھر روانہ ہوگئی۔
بھارتی پولیس کو واقعے کے متعلق بتایا گیا تھا، تاہم اسے پولیس کیس نہیں بنایا گیا کیونکہ دونوں فریقین پنچایت کے فیصلے پر راضی ہوگئے اور معاملہ حل کرلیا گیا۔ بعد ازاں دولہا وشال نے دلہن پوجا کے غیر دوستانہ رویے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ شادی سے قبل بھی ہماری بات چیت ہوتی تھی، اگر میں پسند نہیں تھا تو پہلے بتانا چاہئے تھا۔
دولہا وشال نے شکایت کی کہ اس کی ہونے والی دلہن دونوں خاندانوں کی سبکی کا باعث بنی ہے، جس سے متعدد سوشل میڈیا صارفین نے اتفاق کیا ہے اور واقعے کے قصے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام نے اس پر اپنے اپنے انداز میں قیاس آرائیاں بھی کیں۔ کچھ نے اسے لڑکی کی بہادری سے تعبیر کیا جبکہ کچھ نے شادی کے قریب ہی نہ جانے کا مشورہ دیا۔
بعض سوشل میڈیا صارفین نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شادی کو مذاق اور تفریح کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ اس قسم کی حرکتوں پر جرمانہ ہونا چاہئے تاہم کچھ صارفین کی رائے یہ بھی تھی کہ کئی سالوں کی ایڈجسٹمنٹ کے بعد زندگی خراب کرنے سے یہ بہتر تھا کہ پوجا نے پہلے ہی روز علیحدگی کا واضح فیصلہ کرلیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








