ایبٹ آباد میں کاکول اکیڈمی کے قریب ایک لڑکی کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد پولیس نے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث شخص قاری شاہد کو حراست میں لے لیا ہے اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق لڑکی اپنے والد کا انتظار کر رہی تھی جب ایک شخص نے اسے اپنی گاڑی میں بیٹھنے کی پیشکش کی۔ لڑکی نے احترام کے ساتھ بتایا کہ اس کے والد اسے لینے آرہے ہیں اور اسے کسی مدد کی ضرورت نہیں لیکن وہ شخص اس کے انکار کے باوجود اصرار کرتا رہا۔ لڑکی کے مطابق بار بار منع کرنے پر بھی وہ باز نہ آیا۔
لڑکی نے صورتحال کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی جس کے بعد واقعہ عوامی توجہ میں آیا اور لوگوں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا۔ عوامی دباؤ اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایبٹ آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عوامی مقامات پر خواتین کی حفاظت اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








