اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے کمر عمر بیٹے ابوذر کی گاڑی نے ٹکر مار دی، دلخراش حادثے کے نتیجے میں اسکوٹی پر سوار 2 لڑکیاں موقعے پر جاں بحق ہوگئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ شب پیش آیا جب جسٹس محمد آصف کا کمر عمر بیٹا ابوذر مبینہ طور پر اوور اسپیڈنگ لینڈ کروزر ڈرائیو کررہا تھا۔ رات 1 بج کر 10 منٹ پر شاہراہِ دستور پر پیش آنے والے حادثے میں الیکٹرک اسکوٹی کئی فٹ دور جاگری۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاڑی انتہائی تیزرفتاری سے آرہی تھی جس کی شدید ٹکر کے باعث حادثہ پیش آیا۔
دل دہلا دینے والے اس حادثے کے نتیجے میں جاں بحق جوان العمر لڑکیوں کی شناخت ثمرین اور تابندہ کے ناموں سے ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے اور قانونی کارروائی کا آغاز کردیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران لینڈ کروزر کی تیزرفتاری حادثے کی بڑی وجہ قرار دی گئی ہے۔ڈرائیور کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق حادثے کے دوران جاں بحق خواتین میں سے ایک (ثمرین حسین) کے بھائی عدنان تجمل نے واقعے کا مقدمہ درج کراتے ہوئے بیان کیا کہ میری 25سے26سالہ بہن انٹیرئیر ڈیزائننگ کا کورس اور پرائیویٹ جاب کرتی تھی۔ رات 1 بج کر 10 منٹ پر اپنی دوست تابندہ بتول کے ہمراہ اپنی اسکوٹی پر پی این سی اے سے گھر کی جانب آرہی تھی جب حادثہ پیش آیا۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی مقدمہ کا بھائی ارسلان پل پر دونوں کا انتظار کر رہا تھا۔ رات پونے 2 بجے بہن کے نہ آنے پر مدعی مقدمہ نے فون کیا تو پولیس نے اسے آگہی دی کہ اس کی بہن اور دوست کو اسکوٹی پر آتے ہوئے ایک سفید رنگ کی گاڑی نے ٹکر مار دی ہے۔ دونوں شدید زخمی تھیں جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ مدعی مقدمہ جب پمز ہسپتال پہنچا تو دونوں انتقال کرچکی تھیں۔
تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے واقعے کا مقدمہ رات گئے درج کیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے مقامی عدالت کے روبرو پیش کردیا۔عدالت نے ملزم کو مزید تفتیش کیلئے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کردیا ہے۔پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملزم نے لاپرواہی اور غفلت سے گاڑی چلاتے ہوئے پی این سی اے کی ملازم لڑکیوں کو ٹکر ماری۔
اس حوالے سے پولیس کا مزید بتانا ہے کہ ملزم ابوذر کے پاس شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس نہیں جو کہ حادثے سے چند لمحے قبل اسنیپ چیٹ پر ویڈیو بنا رہا تھا اور حادثے کے فوری بعد ملزم نے موبائل فون کہیں پھینک دیا ہے، ملزم سے موبائل فون برآمد کروانا ہے تاکہ ویڈیو چیک کی جاسکے۔ ملزم کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل ٹیسٹ بھی کروایا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








