مدینہ کے خوفناک حادثے میں زندہ بچنے والے کی گھر واپسی! شعیب نے بتایا کیسے بچائی اس نے اپنی جان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

سعودی عرب میں 17 نومبر کو پیش آنے والے خوفناک بس حادثے میں زندہ بچ جانے والے واحد نوجوان محمد شعیب سعودی عرب میں علاج معالجے کے بعد مکمل صحتیاب ہو کر بھارت واپس پہنچ گئے۔حادثہ مکہ سے مدینہ جانے والی بس کے ڈیزل ٹینکر سے ٹکرانے اور آگ لگنے کے نتیجے میں پیش آیا تھا جس میں 45 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ شعیب معجزاتی طور پر بچ گئے۔

حادثے کے وقت شعیب ڈرائیور کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ بس میں آگ بھڑکی تو شعیب نے کھڑکی کا شیشہ توڑ کر چھلانگ لگائی اور اپنی جان بچائی۔ انہیں شدید چوٹیں آئیں اور انہیں سعودی جرمن اسپتال میں کئی دن آئی سی یو میں رکھا گیا۔ سعودی ڈاکٹروں، بھارتی حکومتِ کی کوششوں سے مکمل علاج کے بعد شعیب وطن واپس آئے۔

شعیب راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، شمش آباد پہنچے جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کی مدد کی۔

ایئرپورٹ پر شعیب کا گھر والوں، عزیز و اقارب اور مقامی افراد نے جذباتی انداز میں استقبال کیا۔ شعیب نے حادثے میں جان گنوانے والے تمام زائرین کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور دعا کی کہ اللہ شہید ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور متاثرہ خاندانوں کو صبر عطا کرے۔

حادثے اور شہداء کی تدفین

مدینہ منورہ کے قریب 17 نومبر کو پیش آنے والے بس حادثے میں 45 زائرین شہید ہوگئے تھے۔ مرحومین کو جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس موقع پر مرحومین کے اہل خانہ اور رشتہ دار بھی موجود تھے تاکہ وہ اپنے پیاروں کو آخری بار دیکھ سکیں اور خراج عقیدت پیش کر سکیں۔

حادثہ اس وقت پیش آیا تھا جب بھارتی عمرہ زائرین کی بس مدینہ کے قریب خطرناک موڑ پر پھسل گئی۔ بس میں سوار سب مسافر زیارت کے لیے آئے تھے اور وہ کئی روز سے مدینہ میں موجود تھے۔ بس شدید نقصان کا شکار ہوئی اور فوری امدادی ٹیمیں پہنچیں تاہم 45 زائرین جانبر نہ ہو سکے۔

تلنگانہ کے وزیر برائے اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین نے بتایا کہ تدفین حادثے کے دو دن بعد مکمل ہوئی کیونکہ سعودی قوانین کے مطابق جان بحق افراد کی شناخت اور کاغذی کارروائی مکمل کرنا ضروری تھا۔ وزیر نے کہا کہ حکومت اور سعودی حکام یقینی بنا رہے ہیں کہ لواحقین کو ہر قانونی اور انتظامی مدد ملے تاکہ تدفین اور دیگر مراسم بلا رکاوٹ مکمل ہو سکیں۔

Related Posts