ایپل نے مودی سرکار کی ہدایات ماننے سے صاف انکار کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے بھارتی حکومت کے متنازع حکم کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے بڑا دھچکا دے دیا۔

مودی سرکار نے ایپل، سام سنگ اور دیگر کمپنیوں کو خفیہ طور پر ہدایت دی تھی کہ وہ آئندہ 90 دن کے اندر اپنے تمام اسمارٹ فونز میں سرکاری سائبر سیفٹی ایپ سنچار ساتھی لازمی طور پر پری لوڈ کریں اور صارفین کو اسے غیر فعال کرنے کی اجازت بھی نہ دی جائے۔

تاہم غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایپل نے صاف انکار کر دیا ہے اور اس حکم پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ ایسی ایپس جبری طور پر شامل کرنا صارفین کی نگرانی اور پرائیویسی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کسی ملک میں ایپل نے ایسا حکم کبھی قبول نہیں کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپل جلد ہی بھارتی حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرے گا لیکن نہ عدالت جائے گا اور نہ ہی کوئی عوامی محاذ کھولے گا صرف یہ واضح کر دے گا کہ اس حکم پر عمل کرنے سے آئی او ایس سسٹم میں سکیورٹی کمزوریاں پیدا ہوں گی، اس لیے یہ ممکن نہیں۔

مودی سرکار کے ناقدین اور ڈیجیٹل پرائیویسی ماہرین پہلے ہی اس حکومتی اقدام کو 730 ملین بھارتی اسمارٹ فون صارفین تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ حکومت اسے سائبر سکیورٹی کے نام پر ’’حفاظتی قدم‘‘ قرار دے رہی ہے، مگر ایپل کا انکار مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی اور تکنیکی جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Posts