کب تک اپنی نااہلی دوسروں پر ڈالی جائے گی؟ مرتضیٰ وہاب کا جھوٹا دعویٰ بے نقاب! نیپا حادثے کا نیا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال ٹاؤن نے محکمہ بلدیات سندھ کو خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ نیپا چورنگی کے قریب ہونے والا حادثے کی حدود گلشن اقبال ٹاؤن کے انتظامی دائرہ اختیار میں نہیں آیا۔

خط میں بتایا گیا کہ حادثے کی جگہ یونیورسٹی روڈ پر ہے جو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت آتی ہے اور سیوریج لائن کی ذمہ داری کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ہے۔ اسی علاقے میں بی آر ٹی اور کے فور منصوبے کے ترقیاتی کام جاری ہیں جو متعلقہ ایگزیکٹو ایجنسیاں انجام دے رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گلشن اقبال ٹاؤن کو حادثے سے بری الزمہ قرار دیا گیا ہے۔ یوسی چیئرمین ریاض اظہر نے 29 اکتوبر کو بی آر ٹی آفس میں میٹنگ میں کھلے مین ہولز کی نشاندہی کی اور ڈھکن لگانے اور رنگ سلیب کرنے کی درخواست کی تھی لیکن کمیٹی نے اس درخواست پر عمل نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق 14 کھلے مین ہولز کی نشاندہی کے باوجود حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے اور ٹھیکے دار نے مزید کام کرنے سے انکار کر دیا۔

یاد رہے کہ گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب 3 سالہ ابراہیم ولد نبیل اپنی فیملی کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور سے باہر نکلا تو کھلے مین ہول میں گر گیا۔ واقعہ رات 11 بجے کے قریب پیش آیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے تلاش شروع کی لیکن کئی گھنٹوں کی کوشش کے باوجود بچے کا سراغ نہ مل سکا آخر میں ایک کچرا جمع کرنے والے نے ابراہیم کی لاش متعلقہ اداروں کے حوالے کی۔

حادثے کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ علاقے کا ٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی ہے، اگر میں ذمہ داری ان پر ڈالوں تو لوگ ناراض ہو جائیں گے، لیکن منافقت کو ایکسپوز کرنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ میئر نے شہریوں کے جذبات کو سیاسی مہم قرار دیا اور اپنے آپ کو بری الزمہ قرار دیا۔

دوسری جانب نیپا چورنگی کے کھلے مین ہول میں ابراہیم کے گرنے کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔ شہری کے وکیل شیخ ثاقب نے درخواست دائر کی، جس میں میئر کراچی اور دیگر متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مین ہولز کی ذمہ داری بلدیاتی نظام پر ہے اور میئر کراچی بحیثیت انتظامی سربراہ اس المناک واقعے کے بنیادی ذمہ دار ہیں۔ گلشن اقبال ٹاؤن کے چیئرمین، ایکسین اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کو بھی حادثے میں برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

Related Posts