آج سے ٹھیک ایک صدی پہلے یعنی 8دسمبر1925 کو پیدا ہونے والے ناصر کاظمی کی 100ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے جبکہ اس باکمال شاعر کی زندگی کی تکلیف دہ داستان آج بھی ان کے مداحوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ناصر کاظمی کے الفاظ میں ’غزل کا احوال دلّی کا سا ہے۔ یہ بار بار اجڑی ہے اور بار بار بسی ہے کئی بار غزل اجڑی لیکن کئی بار زندہ ہوئی اور اس کا امتیاز بھی یہی ہے کہ اس میں اچھی شاعری ہوئی، جبکہ اگر یہ کہا جائے کہ ناصر کاظمی کے یہ الفاظ خود ان کی اپنی ہی زندگی کی داستان بیان کرتے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔
اس باکمال شاعر کے حالاتِ زندگی کی بات کی جائے تو ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925 کو انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سیّد ناصر رضا کاظمی تھا۔ ان کے والد سیّد محمد سلطان کاظمی فوج میں صوبیدار میجر تھے اور والدہ انبالہ کے مشن گرلز اسکول میں ٹیچر تھیں۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ناصر کاظمی کو تعلیم چھوڑنی پڑ گئی۔
کہا جاتا ہے کہ ابتدائی طور پر ناصر کاظمی نے شاعری میں اپنا ماڈل میر تقی میر اور اختر شیرانی کو بنایا، تاہم بطور شاعر ناصر کاظمی جتنا منفرد اور بے ساختہ نظر آتا ہے، ماضی کے بے شمار شعراء میں یہ خوبی مفقود نظر آتی ہے۔
ماضی میں وہ وقت بھیآیا جب ناصر کاظمی کو عشق ہوا۔ ان کے ایک دوست جیلانی کامران بیان کرتے ہیں کہ ان کا پہلا عشق حمیرہ نام کی اک لڑکی سے ہوا۔ ایک رات تو وہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے کاریڈور میں دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور دیواروں سے لپٹ رہا تھا اور حمیرہ حمیرہ کہہ رہا تھا۔ یہ 1944 کا واقعہ ہے اور یہ وہ واحد عشق ہے جس کا پتہ جیلانی کامران سمیت دیگر کو چل گیا۔
بعد ازاں 1952 میں ناصر کاظمی نے بچپن کی اپنی ایک اور محبوبہ شفیقہ بیگم سے شادی کر لی جو ان کی خالہ زاد تھیں۔ ناصر کا پچپن لاڈ پیار میں گزرا تھا اور انہیں کوئی محرومی لاحق نہ تھی، لیکن پاکستان پہنچ کر مناسب ملازمت نہ ملنے کے باعث ان کی زندگی کسمپرسی میں گزرنے لگی، حالانکہ انبالہ میں ان کا خاندان ایک بڑی کوٹھی میں رہائش پذیر تھا۔
لاہور میں ناصر کاظمی کو اپنی زندگی کے قیمتی 10 سال ایک خستہ مکان میں بسر کرنے پڑے۔ ہجرت کے بعد نہ صرف وہ بے روزگار اور بے یارومددگار ہوئے بلکہ ان کے والدین یہ مصائب زیادہ عرصے تک جھیل نیہں سکے اور انتقال کر گئے۔ اس کے بعد ناصر کاظمی نے مختلف محکموں میں چھوٹی موٹی نوکریاں بھی کیں اور بعد ازاں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔
تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ناصر کاظمی نے لاابالی پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان کا دشمن بننا گوارا کرلیا۔ 26سال کی عمر سے دل کے مریض ہونے کے باوجود ناصر کاظمی نے کبھی پرہیز نہ کیا اور تیز چونے کے پان کھائے، مسلسل سگریٹ پیے، نان، مرح اور کباب کھانے سے گریز نہ کیا اور دن میں درجنوں بار چائے پینے کو معمول بنا لیا۔
رات کے وقت آوارہ گردی بھی ناصر کاظمی کے مزاج کا حصہ بن گئی اور شاید یہی بدپرہیزی ہی تھی کہ 1971 میں ناصر کاظمی معدے کے کینسر جیسی موذی بیماری میں مبتلا ہوگئے اور 2 مارچ 1972 کو اس بیماری نے ان کی جان لے لی۔ بطور شاعر ناصر کاظمی نے اپنے مداحوں کے مطالعے کیلئے کثیر سرمایہ چھوڑا ہے۔
مثال کے طورپر ان کی غزلوں کو ملک کے نامور گلوکاروں نے گایا جن میں دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی، نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں، غم ہے یا خوشی ہے تو اور گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ شامل ہیں۔
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارۂ شام بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ
خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ
نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ
کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دور آسماں بھی
جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ
بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے
یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ
شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہم سفر تھا مثال گرد سفر گیا وہ
ان کے شاعری کے مجموعوں بشمول برگ نے، دیوان اور پہلی بارش کے علاوہ خوابِ نشاط کی شاعری بھی آج تک مداحوں کو متاثر کر رہی ہے۔ ریڈیو کی ملازمت کے دوران ناصر کاظمی نے کلاسیکی اردو شاعروں کی خاکہ نگاری پر بھی قلم آرائی کی جسے بے مثال شہرت ملی۔ ان کی شاعری آج نئی نسل کو بھی اپنی خوبصورتی سے مسحور کررہی ہے۔
ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے
کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے گا
روکھی سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے
کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی ٹھنڈا ہو جائے گا لہو
نام خدا ہو جوان ابھی کچھ کر گزرو تو بہتر ہے
کیا جانے کیا رت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں
اب کے سفر میں تم بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے
کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے
رات بہت کالی ہے ناصرؔ گھر میں رہو تو بہتر ہے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








