گلشن اقبال سے 3خواتین کی لاشیں برآمد ہونیکا واقعہ، پولیس نے گھر کے سربراہ کو ملزم قرار دے دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

لاشیں برآمد
(فوٹو: آن لائن)

کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال سے ماں، بیٹی اور بہو سمیت کی لاشیں برآمد ہوئیں، پولیس نے گھر کے سربراہ کو ملزم قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تینوں خواتین ملزم کے سامنے جاں بحق ہوئیں۔

تفصیلات کے مطابق خواتین کی لاشیں برآمد ہونے کے معاملے پر لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے بہو نے بستر پر دم توڑ دیا، اور 2 روز بعد گھر کے سربراہ اقبال کی بیوی بھی انتقال کرگئی۔

اسی دوران گھر کے صوفے پر موجود بیٹی بھی دم توڑ گئی۔ گھر کے سربراہ اقبال کے سامنے اس کا بیٹا بھی بے ہوش ہوگیا اور 3 دن بعد اقبال نے فون کرکے اپنی بہن کو واقعے کے متعلق بتایااور بہن نے فون کرکے اپنے دوسرے بھائی کو بتایا۔

پھر بھائی اور دیگر رشتہ دار فلیٹ پر پہنچے اور پڑوسیوں کو جمع کرلیا۔ جب رشتہ دار اور پڑوسی پہنچے تو گھر کا سربراہ اقبال گھر کے اندر ہی موجودتھا۔ اقبال نے پولیس کو تاحال واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ واقعہ کیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل کراچی کے رہائشی فلیٹ سے ماں، بیٹی اور بہو سمیت 3 خواتین کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، حکام کا کہنا تھا کہ جاں بحق خواتین کی موت کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔

ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جاں بحق خواتین کی عمریں 19 سے 52سال کے درمیان ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ گھر کے سربراہ کی ذہنی حالت درست نہیں لگتی۔ جاں بحق خواتین میں سربراہ کی اہلیہ، صاحبزادی اور بہو شامل ہیں، بیٹے کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق جاں بحق افراد نے کوئی زہریلی چیز کھالی تھی، تاہم ایس ایس پی زبیر نذیر شیخ نے میڈیا کو بتایا کہ گھر سے کوئی ایسی چیز برآمد نہیں ہوئی جس سے جاں بحق افراد کی وجہ موت کا تعین کیاجاسکے، موت کی درست وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آئے گی۔

Related Posts