ضلع مظفر گڑھ میں اسکول پرنسپل سمیت دیگر نے 3 ماہ قبل کمسن طالبہ کو مختلف مواقع پر زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متاثرہ لڑکی حاملہ ہوگئی ہے۔ واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جنسی زیادتی کا یہ افسوسناک واقعہ مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں پیش آیا۔ پولیس نے تعلیمی ادارے کے مالک اور پرنسپل سمیت 4 افراد کو ملزم نامزد کرتے ہوئے واقعے کا مقدمہ درج کیا۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ اسکول پرنسپل نے 3 ماہ قبل زیادتی کی تھی۔
طالبہ کے بیان کے مطابق اسکول کا مالک راشد بھی مختلف اوقات میں اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، مبینہ زیادتی کا شکار طالبہ 3 ماہ سے حاملہ ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزمان کے خلاف تفتیش جاری ہے اور نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل راولپنڈی میں پندرہ سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کے الزام میں پولیس نے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا۔
یہ واقعہ رواں ماہ تھانہ گوجر خان کے علاقے پکا کھوہ میں رپورٹ کیا گیا، والد کی درخواست پر درج مقدمے کے مطابق متاثرہ والد نے بتایا کہ بیٹی واش روم کے لیے گئی تھی لیکن واپس نہیں آئی جس پر بھائی کے ساتھ مل کر تلاش شروع کردی۔
مدعی کا کہنا تھا کہ تلاش کرتے ہوئے بیٹی زمینوں کے قریب ویرانے میں روتے ہوئے ملی، مجھے معلوم نہیں تھا کہ بیٹی کے پاس موبائل فون ہے اور کس نے دیا ہے، بیٹی نے بتایا کہ شاہزیب اور مانو مسلح حالت میں موٹرسائیکل پر آئے اور اسے زمینوں پر لے گئے۔ایک ملزم نے بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








